03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا مشترکہ کاروبار سے بغیر اجازت کےپیسے اٹھانا جائز ہے؟
87034شرکت کے مسائلمشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دکان  دو بھائیوں میں مشترک ہے  ،بڑا بھائی بہت سخت ہے چھوٹے بھائی کو پیسے نہیں دیتا    ،چھوٹا بھائی   بڑے بھائی کی اجازت کے بغیر پیسے اٹھاتا ہے توکیا یہ پیسے اس کے لیے حلال ہیں  یا حرام ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مشترکہ کاروبار میں ہر  ایک شریک دوسرے شریک کے حصے میں اجنبی ہوتا ہے۔ شریک کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس کے حصےمیں تصرف کرنا جائز نہیں ۔تاہم   مشترکہ کاروبار میں  جتنا حصہ چھوٹے بھائی کا بنتا ہے اس کے بقدر لینے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن  شریک کے ساتھ حساب کتاب  کے وقت لیے ہوئے پیسوں کا بھی حساب کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

قااللہ تعالى: وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ. {البقرة:188} وفي كنز العمال: إنه ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرء ‌مسلم إلا بطيب نفس منه. (كنز العمال: 5/ 130))رقم:(12356

وفی الفتاوى الهندية:و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه .

( الفتاوى الهندية: (301/2

قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ :فأما شركة الأملاك، فحكمها في النوعين جميعاً واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك، وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا.( بدائع الصنائع:(65/6

سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/08رمضان المبارک ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب