| 87034 | شرکت کے مسائل | مشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دکان دو بھائیوں میں مشترک ہے ،بڑا بھائی بہت سخت ہے چھوٹے بھائی کو پیسے نہیں دیتا ،چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی اجازت کے بغیر پیسے اٹھاتا ہے توکیا یہ پیسے اس کے لیے حلال ہیں یا حرام ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشترکہ کاروبار میں ہر ایک شریک دوسرے شریک کے حصے میں اجنبی ہوتا ہے۔ شریک کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس کے حصےمیں تصرف کرنا جائز نہیں ۔تاہم مشترکہ کاروبار میں جتنا حصہ چھوٹے بھائی کا بنتا ہے اس کے بقدر لینے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن شریک کے ساتھ حساب کتاب کے وقت لیے ہوئے پیسوں کا بھی حساب کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قااللہ تعالى: وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ. {البقرة:188} وفي كنز العمال: إنه لا يحل مال امرء مسلم إلا بطيب نفس منه. (كنز العمال: 5/ 130))رقم:(12356
وفی الفتاوى الهندية:و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه .
( الفتاوى الهندية: (301/2
قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ :فأما شركة الأملاك، فحكمها في النوعين جميعاً واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك، وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا.( بدائع الصنائع:(65/6
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/08رمضان المبارک ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


