| 87133 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
میرے ایک ماموں ہیں اور ان کے پاس دو یا تین ایکڑ زمین ہے اس کے علاوہ کوئی کیش ، سونا یا کوئی اور پراپرٹی نہیں۔ کیا ان کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کی ملکیت میں جو زمین موجود ہےاگر وہ اس کی ضرورت سے زائد ہو یعنی رہائش اور کھیتی باڑی کے علاوہ ہواور وہ قیمتی زمین ہو (مثلًا بالکل بنجر یا غیر آباد نہ ہو) تو ایسے شخص کا زکوۃ وصول کرنا جائز نہیں ہو گا۔
اور اگر وہ زمین کھیتی باڑی کے لیے ہو جس پر کھیتی کر کے اناج حاصل کرتا ہو اور سال کے آخر میں اس میں سے بقدرِ نصاب کچھ باقی نہیں رہتا یا وہ زمین رہائش کے لیے ہو تو ایسی صورت میں ایسا آدمی زکوۃ وصول کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 348):
وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لا تكفيه وعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة عند محمد، وعند أبي يوسف لا يحل وكذا لو له كرم لا تكفيه غلته؛ ولو عنده طعام للقوت يساوي مائتي درهم، فإن كان كفاية شهر يحل أو كفاية سنة، قيل لا تحل، وقيل يحل؛ لأنه يستحق الصرف إلى الكفاية فيلحق بالعدم، وقد ادخر عليه الصلاة والسلام لنسائه قوت سنة، ولو له كسوة الشتاء وهو لا يحتاج إليها في الصيف يحل ذكر هذه الجملة في الفتاوى. وظاهر تعليله للقول الثاني في مسألة الطعام اعتماده.
وفي التتارخانية عن التهذيب أنه الصحيح وفيها عن الصغرى له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لا يسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح وفيها سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاث آلاف ولا تكفي لنفقته ونفقة عياله سنة؟ يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفا وعليه الفتوى وعندهما لا يحل اهـ ملخصا.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
8/رمضان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


