| 87088 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے جس خاتون سے نکاح کیا ہے، وہ اپنے سابقہ شوہر کے ناروا سلوک کی وجہ سے عدالت کے ذریعے خلع حاصل کر چکی تھی۔ عدت کی مکمل مدت گزارنے کے بعدہمارا نکاح ہوا۔تاہم ہمارے مقامی عالم صاحب کا یہ کہنا ہے کہ ایسا نکاح شرعاً درست نہیں ہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ آپ مجھے احکام شرعیہ کی روشنی میں اس نکاح کا حکم بتائیں!
تنقیح: سائل سے خلع کے متعلق ضروری دستاویزات طلب کی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق، شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس کے سبب عدالت نے یکطرفہ طور پر فیصلہ جاری کیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع بھی دوسرے مالی معاملات کی طرح ایک دو طرفہ معاملہ ہے، جس میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو خلع نہیں ہوتا۔ لہٰذا شوہر کی رضامندی کے بغیر صرف بیوی کے دعویٰ کی بنیاد پر عدالت خلع واقع نہیں کر سکتی۔ جبکہ مذکورہ صورت میں عدالت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر ہی یک طرفہ طور پر تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دی ہے تو اس صورت میں فسخِ نکاح کا مذکورہ عدالتی فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، نیز اس فیصلے کو تنسیخِ نکاح پر بھی محمول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ تنسیخِ نکاح کے لیے عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کو عدالت میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کرے، جبکہ مذکورہ صورت میں عورت نے شرعاً دو معتبر گواہوں کے ذریعہ اپنے دعویٰ کو ثابت نہیں کیا۔ لہٰذا اس فیصلے کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ فریقین کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے۔ لہٰذا آپ کا اس لڑکی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (الدر المختار مع رد : 3/ 439)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع. ( رد المحتار :3/ 441)
قال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ: قال: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (المبسوط: 6/ 173)
في الجوهرة النيرة :قوله (ولزمها المال) ؛ لأنه إيجاب وقبول يقع به الفرقة من قبل الزوج ويستحق العوض منها وقد وجدت الفرقة من جهته فلزمها المال ولا يصح الخلع والطلاق على مال إلا بالقبول في المجلس. (الجوهرة النيرة :2/ 59)
الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:181):
طريق تطليق زوجة المفقود أو الغائب الذي تعذر الإرسال أو أرسل إليه، فتعاند، إن كان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت لشاهدين أن فلانا زوجها وغائب عنها، ولم يترك لها نفقة، ولا وكيلا بها، ولا أسقطتهاعنه، وتحلف على ذلك، فيقول الحاكم فسخت نكاحه أو طلقت منه.
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية ،ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
في الفتاوى الهندية: (وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية :4/ 3)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه .
( رد المحتار :5/ 441)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/9 رمضان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


