| 87144 | جنازے کےمسائل | جنازے کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا تعلق پہاڑی علاقوں سے ہے جہاں ہوٹل یا بازار موجود نہیں ہیں۔ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو میت کے رشتہ دار دور دراز سے آتے ہیں، اور چونکہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکتے ، تو میت کے اہلِ خانہ مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میت کے اہلِ خانہ پر مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا لازم نہیں ہے، بلکہ یہ عمل خلافِ شرع رسم و بدعت ہے، البتہ ایسے لواحقین جو دور دراز سے آئے ہوں اور ان کے لیے اسی روز اپنے گھروں کو لوٹنا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت ایک، دو وقت کے لیے میت کے اہلِ خانہ کی طرف سے کھانے کا بندوبست کرلینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام اہلِ میت کے قریب رہنے والے رشتہ دار اور پڑوسی کریں۔ غم کے اس موقع پر خود اہلِ میت پر کھانا تیار کرنے کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :أوصى باتخاذ الطعام بعد موته ويطعم الدين يحضرون التعزية جاز من الثلث، ويحل لمن طال مقامه ومسافته، لا لمن لم يطل ... قلت: وحمل المصنف الأول على طعام يجتمع له النائحات بقيد ثلاثة أيام، فتكون وصية لهن، فبطلت، والثاني على ما كان لغيرهن.( الدر المختار :665/6)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( ويحل لمن طال مقامه ومسافته) ويستوي فيه الغني والفقير. خانية. وتفسير طول المسافة أن لا يبيتوا في منازلهم. ظهيرية. والمراد أن لا يمكنهم المبيت فيها لو أرادوا الرجوع إليها في ذلك اليوم. (رد المحتار :665/6)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/11 رمضان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


