03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اڈے والوں کا گاڑی تاخیر سے پہنچنے پر جرمانہ لینے کا حکم
89198حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

شہر میں جو منی بس اڈے ہوتے ہیں ان کے اصول اور ترتیب یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر  گاڑی کو مخصوص وقت  دیتے ہیں۔جب کوئی گاڑی اس مخصوص  وقت سے اسٹاپ پر تاخیر سے پہنچتی ہے   تو  اس پر  فی منٹ کے حساب  سے سو روپے جرمانہ  عائد  کیا جاتا  ہے  ۔ یہ جرمانہ اس کے بعد آنے والی گاڑی کو دیا جاتا ہے ، کیونکہ جب  ایک گاڑی کو آنے میں تاخیر ہوتی ہے  تو   وہ بعد میں آنے والی  گاڑی کا وقت لے لیتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ جرمانہ منشی وصول کرتے ہیں اور  پھر اس کے بعد آنے والی  گاڑی کو دیتے ہیں ۔ منشی  فی منٹ کے حساب سے سو روپیہ وصول کرتے ہیں ، اور چونکہ وصولی کے دوران  انہیں  مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے  منشی کو ہر سو روپے میں سے دس روپے دیے جاتے ہیں ۔اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اڈے والوں کا  گاڑی سے تاخیر  سے پہنچنے  پر مالی جرمانہ  لینا اور اسے  بعد میں آنے والی گاڑی کو دینا شرعا  نا جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو گاڑی تاخیر سے پہنچی ہے اس نے دوسری  کا وقت لیا ہے  ، لیکن اس وقت میں دوسری گاڑی کا  حقیقی نقصان ہوا ہے یا نہیں  ؟یہ واضح نہیں ہے  بلکہ نقصان کا  صرف احتمال ہے  اور محض  احتمال کو حقیقی نقصان سمجھ کر  گاڑی والے سے  جرمانہ وصول کر کے  دوسری گاڑی کو دینا  اور منشی  کا ہر سو روپے  میں سے دس روپے لینا درست نہیں ۔

فقہاء نے ضررِ فعلی کا اعتبار اس صورت میں  کیا ہے  جب حقیقی نقصان ہوا ہو  ،اور اتنا ہی  ضمان لیا جائے جتنا نقصان ہوا   ہو ،اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ۔ جب کہ صورت مسئولہ  میں  ہر منٹ کا سو روپے جرمانہ لیا جا رہا   ہے خواہ نقصان اس سے کم ہو یا زیادہ  ۔آ ج کل اس کو  liquidated damages)  ( کہتے ہیں، جو کہ جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي). 4/ 62(:

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وسيذكر الشارح في الكفالة عن الطرسوسي أن مصادرة السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بيت المال: أي إذا كان يردها لبيت المال مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ).3/ 208(:

وعن أبي يوسف أن التعزير بأخذ الأموال جائز للإمام) وعندهما والشافعي ومالك وأحمد لا يجوز بأخذ المال. اهـ. كاكي وفتح وما في الخلاصة سمعت من ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز من جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال مبني على اختيار من قال بذلك من المشايخ لقول أبي يوسف.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي)6/ 63(:

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

)تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار )(9/ 61(:

(ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة) لما روينا، ولأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12 /جمادی الثانیہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب