| 89232 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
میری والدہ کو میری نانی کی طرف سے وراثت میں کچھ زمین ملی، جسے میں نے اپنی والدہ کے نام پہ انتقال کروایا۔ اور اس انتقال پر کافی خرچہ آیا ہے، جس میں کچھ ایسے پیسے شامل ہوگئے ہیں جوکہ سود پر لیے گئے تھے۔ اب زمین میری والدہ کے نام پہ ہوگئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح کی زمین اگر ہم بیچ دیں، اس کا پیسہ حرام تو نہیں ہوگا؟ میں بہت پریشان ہوں، شریعت میں اس کا کیا حل ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیان کردہ صورت کے مطابق اگر چہ سودی قرضے کی رقم لگاکر زمین اپنے نام کرائی گئی ہے، لیکن اس زمین سے حاصل ہونے والی آمدن یا اس کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم حلال ہے۔ البتہ یاد رہے کہ سودی قرضہ لینا جائز نہ تھا ، کیونکہ جس طرح سود کا لینا حرام ہے،اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے۔ لہذا اگر کسی نےسودی قرضہ لے لیا، تو اسے صدق دل سے استغفار کرنا چاہیے۔ نیز کوشش کرےکہ جلد از جلد سودی معاملہ ختم کردے۔
حوالہ جات
رد المحتار: (ج: 5،ص:161،ط:ایچ ایم سعید)
"واعلم أن المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء، فيحرم الانتفاع به لا بيعه لثبوت الملك."
الموسوعة الفقهية الكويتية: (ج:32،ص:281،ط:دار الصفوة)
"ذهب أبو حنيفة ومحمد والشافعية في القول الأصح والحنابلة وغيرهم، إلى أن المقترض إنما يملك المال المقرض بالقبض."
صحيح مسلم: (ج:3، ص:1219، ط:احیاء التراث)
"عن جابر رضي الله عنه قال: (لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء) ".
ردالمحتار: (ج:5،ص:166ط:ایچ ایم سعید)
"وفى الأشباه كل قرض جرّ نفعًا حرام."
سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
12/ جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


