| 90037 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں اور ایک بیوہ تھی، اس کے ترکہ میں دو اونٹ، ایک گھوڑا اور چھبیس عدد بھیڑ اور بکریاں تھیں، اس کے تمام ترکہ پر اس کے تین بیٹوں نے قبضہ کر لیا اور بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا۔
عرصہ گزرنے کے بعد اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں فوت ہو گئیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی زندہ ہے، اب یہ بیٹا چاہتا ہے کہ میرے پاس والد کی وراثت میں سے جو بہنوں کا حصہ ہے میں وہ اپنی بہنوں کو دینا چاہتا ہوں، یہ بہنیں اپنے والد کی وفات کے وقت حیات تھیں، البتہ ان میں سے تین کا انتقال ہو چکا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ شرعاً اپنی بہنوں یا ان کی اولادوں کو کتنا حصہ دینے کا پابند ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے آدمی کی وفات کے بعد اس کے ترکہ سے بالترتیب سب سے پہلے تجہیزوتکفین کے اخراجات، پھرواجب الادء قرض کی ادائیگی،اس کےبعد جائز وصیت پر عمل اور پھر اگر ترکہ باقی بچے تو وہ اس کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا تین حقوق ادا کرنے کے بعد ترکہ کی تقسیم درج ذیل نقشہ کے مطابق ہونی چاہیے تھی:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
10 |
%12.5 |
|
2 |
بیٹا |
14 |
%17.5 |
|
3 |
بیٹا |
14 |
%17.5 |
|
4 |
بیٹا |
14 |
%17.5 |
|
5 |
بیٹی |
7 |
%8.75 |
|
6 |
بیٹی |
7 |
%8.75 |
|
7 |
بیٹی |
7 |
%8.75 |
|
8 |
بیٹی |
7 |
%8.75 |
|
9 |
مجموعہ |
80 |
10 |
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر تینوں بھائیوں نے مرحوم کے مذکورہ بالا تین حقوق ادا کرنے کے بعد اپنے والد کا ترکہ آپس میں برابر تقسیم کیا ہے تو ہر بیٹے کے حصے میں 29.16% حصہ آیا ہے، جس میں 11.666% حصہ چاروں بہنوں کا ہے، (کیونکہ ہر بہن کا شرعی حص %8.75 تھا، اس کا مجموعہ 35% بنتا ہے، پھر تین بھائیوں نے اس کو آپس میں برابر تقسیم کیا تو ہر ایک کے قبضہ میں 11.666% آیا) لہذا یہ بیٹا اپنے والد کی طرف سے آنے والے ترکہ میں سے 11.666% چاروں بہنوں کو دینے کا پابند ہے، پھر اس حصے کو چار پر برابرتقسیم کرنے سے ہر بہن کا حصہ 2.91% ہو گا، لہذا ہر بہن کو اتنے فیصد حصہ دینا ضروری ہے، نیز جو بہنیں وفات پا چکی ہیں ان کا حصہ ان کی اولاد کو ملے گا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
القرآن الکریم : [النساء: 12] :
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِوَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/شوال المکرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


