03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد بچی کی پرورش اور نفقہ کا حکم
90030طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

میری پانچ سالہ بچی ہے، جس کو سسرال والے لے گئے ہیں، پہلے وہ میرے پاس تھی، اس کے بارے میں شرعی حکم بتایے کہ یہ کس کے پاس رہے گی اور اس کا نان ونفقہ وغیرہ کس کے ذمہ واجب ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں اولاد کی پرورش کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ بچے کی پرورش کا سات سال تک ماں کو حق ہوتا ہے، اس کے بعد باپ کواولاد لینے  کا حق ملتا ہے،  لہذااس عمر سے پہلے باپ کا ماں سے  زبردستی بچی کو اپنے پاس لے جانا  جائز نہیں، اس میں ماں کی حق تلفی اور اس پر ظلم ہے، جس کی شریعت ہرگز اجازت نہیں دیتی۔  

البتہ یہ  بات واضح رہے کہ ماں کو پرورش کا حق اس وقت تک رہتا ہے، جب تک ماں بچے کے کسی غیر محرم سے شادی نہ کرے، اگر ماں  بچے کے کسی غیر محرم سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچے کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں بچے کی نانی کو پرورش کا حق ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو حق ملے گا، وہ نہ ہو توبہن کو، اگر وہ نہ ہو تو  خالہ کو اور اگر وہ بھی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کردے تو پھوپھی کو حق ملے گا، نیز اگر ان خواتین میں سے کوئی بھی پرورش کے لیے تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں پرورش کا باپ کو حاصل ہو گا۔

باقی علیحدگی کے بعد بچے کا نان ونفقہ، علاج معالجہ اور دیگر تمام اخراجات اس کے والد کے ذمہ واجب ہیں، جس کے لیے دونوں فریق باہمی رضامندی سے رقم کی ایک مناسب مقدار مقرر کر سکتے ہیں اور اگر بالفرض فریقین کا کسی رقم پر اتفاق نہ ہوتو عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، عدالت اپنے حساب سے شوہر کے ذمہ عورت اور اس کے بچے کے اخراجات کے لیے ماہانہ ایک متعین رقم کی ادائیگی واجب کر دے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين ( (3/ 567) دار الفكر-بيروت:

(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 412) دار إحياء الكتب العربية:

يشترط أيضا أن لا تكون متزوجة بغير محرم للصغير۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 254) دار الكتب العلمية:

وفي القنية: الام أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا۔

حاشية ابن عابدين (3/ 557) دار الفكر-بيروت:

(قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المراد كثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:

" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول  الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب " لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا فلا نظر۔

تحفة الفقهاء (2/ 233) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

الأم وإن كانت أحق بالحضانة فإنه لا يجب عليها إرضاع الصبي لأن ذلك بمنزلة النفقة ونفقة الولد يختص بها الوالد.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب