| 87233 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری چھوٹی بہن کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی، جس سے اُس کا ایک چھ ماہ کا بیٹا بھی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے اُس کا انتقال ہارٹ اٹیک کے باعث ہو گیا۔ اُس کے ورثاء میں شوہر، والدہ، اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ میری بہن کی میراث کے متعلق مسئلہ میں آپ کے دارالافتاء سے پہلے ہی پوچھ چکی ہوں، اور اس کا جواب بھی مجھے مل چکا ہے۔
اب میرا مزید سوال یہ ہے کہ:
جو زیور میری والدہ نے بطورِ ملکیت اپنی بیٹی کو دیا تھا، کیا اُس میں بھی شوہر سمیت تمام ورثاء کا حصہ ہوگا؟اور کیا ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اس زیور کو اپنے پاس محفوظ رکھیں، اُسے تقسیم نہ کریں، اور جب مرحومہ کا بیٹا بالغ ہو کر شادی کرے تو وہ زیور اُس کی دلہن کو چڑھایا جائے؟کیا ایسا کرنا ہمارے لیے شرعاً جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بوقتِ وفات مرحومہ کے چھوڑے گئے تمام سامان کی طرح یہ زیور بھی تمام ورثاء کا حق ہے۔ لہٰذا شوہر سمیت تمام ورثاء کی دلی رضامندی کے بغیر آپ اس زیور کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں۔ اس لیے اسے بھی دیگر ترکہ کی طرح تقسیم کرنا لازم ہے۔ تقسیم کا طریقہ سابقہ فتویٰ میں بیان کیا جا چکا ہے۔
حوالہ جات
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350)
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 230)
ولقوله - عليه الصلاة والسلام - «ألحقوا الفرائض بأهلها فما أبقت فلأولى عصبة ذكر»
حاشية ابن عابدين - (3 / 585)
فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذ طلقها تأخذه كله وإذا ماتت يورث عنها.
الدر المختار - (3 / 155)
( جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعده إن سلمها ذلك في صحته ) بل تختص
به ( وبه يفتى )
الفتاوى الهندية - (1 / 327)
لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/10/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


