03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نئے نکاح کی وجہ سے بیوہ کا میراث میں حصہ ختم نہیں ہوتا
87230میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری والدہ کا انتقال ہوا،اس کے ڈیڑھ سال  بعد میرے والد نے دوسری شادی کرلی،جس خاتون سے شادی ہوئی وہ انڈیا سے آئی تھی،اس کے ساتھ تین چار سال شادی رہی،اس کے بعد والد کا انتقال ہو گیا تو میری دوسری والدہ واپس انڈیا اپنی ماں کے پاس چلی گئی،یہاں رہنے میں ان کا فائدہ نہیں تھا، کیونکہ اگر ان کو یہاں کی شہریت مل جاتی تو پھر انڈیا بالکل قبول نہیں کرتا،چونکہ یہاں کی شہریت ملنے سے پہلے ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنی والدہ کے پاس چلی گئی،والدہ کے پاس جانے کے ایک سال بعد دوسری جگہ اس کا نکاح ہوگیا،اس کے بعد ہمارا یہاں پر گھر فروخت ہوا اور وراثت تقسیم ہوئی،اب پوچھنا یہ ہے کہ میری دوسری والدہ جس نے وہاں انڈیا میں دوسرا نکاح کرلیا اس کا بھی وراثت میں حصہ ہو گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ والد کے انتقال کے وقت آپ کی سوتیلی ماں آپ کے والد کی زوجیت میں تھی اور شوہر کے انتقال کے بعد دوسری جگہ نکاح کی وجہ سے سابقہ مرحوم شوہر کے میراث کے حصے پر کوئی اثر نہیں پڑتا،اس لئے آپ کے مرحوم والد کے ترکہ میں سے انہیں آٹھواں(12.5%)حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

.....

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

16/شوال1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب