| 87285 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
طلاق نامہ
مسمی وقاص احمد جمال الدین، مسلم ،عاقل،بالغ،سکنہ مکان نمبر B-863،بلاک 1،میٹروول سائٹ، کراچی غربی میں رہائش پذیر ہوں ۔
1۔یہ کہ میری شادی ہوئی، مسماة نورین بنت عبدالوحید مسلمہ، عاقلہ، بالغہ، سکنہ مکان نمبرP-180محلہ بطحہ ٹاؤن، بلاک N نارتھ ناظم آباد ، کراچی سے مورخہ 15.05.2022 کو بعوض شرعی حق مہر 1500ڈالر ، جو کہ ادا شدہ ہے۔
2۔شادی کے بعد میرے اور مسماة نور ین بنت عبدالوحید کے درمیان بحیثیت میاں بیوی ہم آہنگی نہ ہو سکی جس کی وجہ سے آپس میں زیادہ لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہوگئے اور زندگی اجیرن بن کر رہ گئی اوربحیثیت میاں بیوی زندگی گزارنا بہت مشکل ہو گیا۔ میں نے مسماۃ مذکورہ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر مسماۃ مذکورہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی کرتی تھی ، اس وقت مسماۃ نورین بنت عبدالوحید اپنے والدین کے گھر ہے، اس لڑائی جھگڑوں کے دوران میری نوکری بھی چھن گئی ہے۔
3۔یہ کہ آئے دن کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ہمارے درمیان شرافت کی حدود میں رہتے ہوئے ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نہیں رہا، لہٰذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں وقاص احمد جمال الدین اپنے ہوش و حواس میں مسماۃ نورین بنت عبد الوحید کو ایک طلاق دیتا ہوں ۔
4۔یہ کہ مسماة نورین بنت عبد الوحید میری زوجیت سے آزاد ہے اور وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی بسر کرے یا بعد عدت دوسری شادی کرے۔ مجھے کوئی اعتراض یا عذر نہ ہوگا اورنہ ہی آئندہ بھی اپنا حق یا دعوی جتلا ؤں گا۔
5۔ یہ کہ حق مہر کی رقم ادا شدہ ہے ،اس لیے اب ہمارے درمیان اور کسی قسم کا کوئی لین دین و غیرہ نہیں رہااور نہ ہی آئندہ کوئی فریق دوسرے فریق کے خلاف کوئی حق یاد عوی جتلائے گا۔
6۔یہ آج سے دونوں فریقین بالکل آزاد ہیں اور جس طرح چاہیں اپنی اپنی زندگی بسر کریں دوسرے فریق کو کوئی اعتراض یا عذر نہ ہوگا۔
لہذا یہ طلاق نامہ ہوش و حواس، بلاجبر و تشدد، بلا خوف غیرے صحت حواس خمسہ رو برو درج ذیل گو اہان تحریر کر دیا اور پڑھ کر اور سن کرصحیح تسلیم کرتے ہوئے اپنے دستخط/نشان انگوٹھا ثبت کر دیے تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آسکے۔
(1)مذکورہ طلاق نامےکی روشنی میں کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟(2)میری بیٹی کو اُن کے شوہر کی طرف سے زیورات اور کپڑے گفٹ ملے تھے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟جو اشیاء ہم نے داماد کو دی ہیں،اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)طلاق صریح کے بعد جب طلاق کے ایسے کنائی الفاظ بولے جائیں جن میں سابقہ صریح طلاق کی توضیح،تفسیر اور اس کے حکم کے بیان کا احتمال موجود ہو اور شوہر نے ان الفاظ سے دوسری طلاق کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں اگر اُن الفاظ سے طلاق کے معنی میں سختی پیدا ہوتی ہو تو ایسی صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوتی ہے،لہٰذا مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے۔البتہ اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو نئے مہر کے ساتھ نکاح ضروری ہے،نیزدوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاق دینے کا اختیار باقی رہے گا۔
(2)رہی بات مہر اور اس کے علاوہ جانبین سے دی جانے والی اشیاء کی تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ مہر زوجہ کا حق ہے،لہٰذا مہر کے طور پر جو کچھ طے کیا گیا ہو،وہ ادا کیے جانے کے بعد زوجہ کی ملکیت شمار ہوگااوراگرادانہ کیا ہوتوشوہرکےذمےمیں اس کی ادائیگی لازم رہے گی،الا یہ کہ زوجہ معاف کردے،البتہ مہر کے علاوہ جو کچھ زوجہ یا زوج کو دیا جاتا ہے،اس میں تفصیل ہے:
- اگر صراحت ہوکہ یہ اشیاءفقط عاریتاً یعنی استعمال کے لیے دی جارہی ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ جسےیہ اشیاء دی گئی ہیں،یہ اس کی ملکیت میں شمار نہیں ہوں گی اور جس نے بھی دی ہیں،اس کے مطالبے پر ایسی اشیاء کاواپس کرنا ضروری ہوگا۔
- اگر صراحت ہوکہ یہ چیزیں ہبہ (Gift)کے طور پردی جارہی ہیں توایسی صورت میں جب قبضہ کرلے تو ان پر ملکیت آجائے گی اور طلاق وغیرہ کسی بھی صورت میں رضامندی کے بغیر واپس لینا جائز نہیں ہوگا۔
- اگر کسی قسم کی کوئی صراحت نہ ہوکہ یہ عاریتاً یعنی فقط استعمال کے لیے دی جارہی ہیں یا ہبہ (Gift) کے طور پر دی جارہی ہیں توایسی صورت میں عرف کا اعتبار ہوگا،اگر عرف عاریت کا ہے تو ان پر ملکیت نہیں آئے گی،لہٰذا مطالبے پر واپس کرنا ضروری ہوگا اور اگر عرف ہبہ(Gift) کا ہے تو ان پر ملکیت آجائے گی اور رضامندی کے بغیر کسی بھی صورت میں واپس لینا جائز نہیں ہوگا۔
- اگر صراحت بھی نہ ہو اور کسی قسم کا کوئی عرف بھی نہ ہوتو ایسی صورت میں ایسی تمام اشیاء جو قبضے میں دی جاچکی ہیں،ان پر ملکیت آجائے گی،لہٰذا رضا مندی کے بغیر واپس لینا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
(خلاصة الفتاوی ،ج:۲،ص:۸۶)
وفي الفتاوی: لو قال لامرأته "أنت طالق"، ثم قال للناس "زن بر من حرام است" وعنی به الأول أو لا نیة له فقد جعل الرجعي بائنا، وإن عنی به الابتداء فهي طالق آخر بائن.
الفتاوى الهندية (1/ 472)
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:3/ 151،152(
(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية؛ لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده و ترجع بباقي المهر ذكره ابن الكمال. ولو عوضته ثم ادعاه عارية فلها أن تسترد العوض من جنسه زيلعي (في غير المهيإ للأكل)...(قوله ولو بعث إلى امرأته شيئا) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها نهر...(قوله والبينة لها) أي إذا أقام كل منهما بينة تقدم بينتها ط.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 380)
زوج بنته وجهزها ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية، وقالت تمليكا أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه، وقال الأب عارية، قيل: القول للزوج ولها؛ لأن الظاهر شاهد به إذ العادة دفع ذلك إليها هبة واختاره السغدي، واختار الإمام السرخسي كون القول للأب؛ لأن ذلك يستفاد من جهته ، والمختار للفتوى القول الأول إن كان العرف ظاهرا بذلك كما في ديارهم، كما ذكره في الواقعات وفتاوى الخاصي وغيرهما، وإن كان العرف مشتركا فالقول للأب، وقيل إن كان الرجل ممن مثله يجهز البنات تمليكا فالقول للزوج وإلا فله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 158)
كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 153)
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 157)
والمعتمد البناء على العرف كما علمت.
الفتاوى الهندية (1/ 327)
وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۱.شوال۱۴۴۶ہجری
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


