03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیٹوں، پانچ بیٹیوں اور شوہر کے درمیان میراث کی تقسیم
87279میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

والدہ صاحبہ کا انتقال 2015 میں ہوا تھا۔ ورثاء میں شوہر، دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ والدہ کے ترکہ میں طلائی اور چاندی کے کچھ زیورات موجود تھے۔ چونکہ ترکہ میں  زیورات تھے، اس لیے والد صاحب نے اس معاملے میں دلچسپی نہیں لی، جس کی وجہ سے آج تک میراث تقسیم نہ ہو سکی۔اب ہم میراث تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا براہِ کرم راہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ ورثاء کے درمیان والدہ صاحبہ کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ  زیورات سمیت  منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے  يہ  سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحومہ کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحومہ  نے غیرِ وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو(اوراسی کے حکم میں نمازوں اور روزوں کےفدیہ کے لیےکی جانے والی وصیت بھی ہوگی،اگروصیت کی ہو)  تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(1/3) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچےاس کوشرعی ورثہ میں تقسیم کیاجائے گا۔

چونکہ مرحومہ کا خاوند حیات ہیں لہذا مرحومہ کے کفن دفن کے اخراجات اس پرہونگے،لہذا وہ ترکہ سے منہانہیں ہونگے۔

  مذکورہ بالاحقوق(قرض اوروصیت اگرکی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگرآپ کی والدہ مرحومہ کےانتقال کے وقت اگر صرف یہی ورثاء ہوں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ غیر منقولہ ترکہ میں سے مرحومہ کےخاوندکو 25%، ہربیٹے کو % 16.666اورہربیٹی کو%8.333حصہ دیا جائے ۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." 

(ص:696, المكتبة الشاملة)

{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.

وفی الشامیة:

"واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر المختار) …  أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 206، ط: سعيد)

وفی الھندیة:

یجب الکفن علی الزوج وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".(کتاب الصلاۃ،  الباب الحادي والعشرون في الجنائز، 1/ 141، ط: رشيدية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

23/10/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب