| 87273 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
بندے کے والد محترم کا ایک ہفتہ قبل چترال میں انتقال ہو گیا ہے۔ اب والدہ محترمہ عدت گزار رہی ہیں، لیکن وہاں ان کے ساتھ کوئی محرم موجود نہیں ہے، کیونکہ دو بھائی کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ایک بھائی چترال شہر میں ہے، جو کہ گاؤں سے کافی دور ہے اور اسکول ٹیچر بھی ہے۔ اسی طرح دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں۔اس بنا پر بندہ اب والدہ کو کراچی لانا چاہتا ہے تاکہ وہ عدت یہیں گزار سکیں۔توسوال یہ ہے کہ
کیا والدہ کو کراچی لا کر عدت گزارنا جائز ہے؟ براہِ کرم فتویٰ کی صورت میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سائل کی والدہ خدمت کی محتاج نہ ہوں اور نہ ہی اکیلے رہنے میں اسے کسی قسم کا جانی، مالی یا عزت کا خطرہ ہو، تو بلا ضرورت مرحوم شوہر کے گھر سے نکل کرکراچی جانااس لیےشرعاً جائز نہیں ہے، ان پر اپنے شوہر کے گھر ہی میں عدت پوری کرنا لازم ہے۔تاہم، اگر وہ اکیلے رہنے میں کسی قسم کے جانی، مالی یا عزت کے خطرے سے دوچار ہوں، یا انہیں وحشت محسوس ہو، یا وہ واقعی خدمت کی محتاج ہوں اورکوئی خدمت والاساتھ نہ ہو، تو ان اعذارکی بناء پر وہ بیٹے کے ساتھ کراچی منتقل ہوکروہاں عدت گزار سکتی ہیں۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 712):
عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة، عن عمته زينب بنت كعب أن فريعة بنت مالك بن سنان أخبرتها أنها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم تسأله أن ترجع إلى أهلها في بني خدرة وأن زوجها خرج في طلب أعبد له أبقوا حتى إذا كانوا بطرف القدوم لحقهم فقتلوه فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أرجع إلى أهلي فإن زوجي لم يتركني في مسكن يملكه قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نعم " فانصرفت حتى إذا كنت في الحجرة أو في المسجد دعاني أو أمرني فدعيت له قال: فكيف قلت: فرددت عليه القصة التي ذكرت له من شأن زوجي فقال: " امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله " قالت: فاعتددت فيه أربعة أشهر وعشرا، فلما كان عثمان أرسل إلي فسألني عن ذلك فأخبرته فاتبعه وقضى به.
سبل السلام (2/ 296):
والحديث دليل على أن المتوفى عنها زوجها تعتد في بيتها الذي نوت فيه العدة، ولا تخرج منه إلى غيره. وإلى هذا ذهب جماعة من السلف والخلف.وفي ذلك عدة روايات وآثار عن الصحابة ومن بعدهم، وقال بهذا أحمد والشافعي وأبو حنيفة وأصحابهم، وقال ابن عبد البر وبه يقول جماعة من فقهاء الأمصار بالحجاز والشام ومصر والعراق وقضى به عمر بمحضر من المهاجرين والأنصار.
وفی الدر المختار (3/ 536)
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.
وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536)
(قوله: إلا أن تخرج) الأولى الإتيان بضمير التثنية فيه وفيما بعده ط، وشمل إخراج الزوج ظلما، أو صاحب المنزل لعدم قدرتها على الكراء، أو الوارث إذا كان نصيبها من البيت لا يكفيها بحر: أي لا يكفيها إذا قسمته لأنه لا يجبر على سكناها معه إذا طلب القسمة، أو المهايأة ولو كان نصيبها يزيد على كفايتها.(قوله: أو لا تجد كراء البيت) أفاد أنها لو قدرت عليه لزمها من مالها، وترجع به المطلقة على الزوج إن كان بإذن الحاكم كما مر. (قوله: ونحو ذلك) منه ما في الظهيرية: لو خافت بالليل من أمر الميت والموت ولا أحد معها لها التحول - والخوف شديد - وإلا فلا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25 /10/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


