03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکابیوی کے پاس موجود امانت کے زیورات فروخت کرنے کاحکم
87281میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

  میں، اہلیہ اسلم فریشی (مرحوم)، یہ بیان کرنا چاہتی ہوں کہ میری نانی نے میرے پاس چار سونے کی چوڑیاں اور ایک جوڑی بندے امانت کے طور پر رکھوائے تھے۔ نانی نے مجھے واضح طور پر بتایا تھا کہ:

  • دو چوڑیاں میری والدہ (شمیم، مرحومہ) کی ہیں۔
  • ایک چوڑی اور بندے کوثر خالہ کی ملکیت ہیں۔
  • ایک چوڑی کیثر خالہ (مرحومہ) کی ہے۔

نانی کے وارثان درج ذیل ہیں:

  1. سلم (بیٹا) – میرے ماموں
  2. شمیم (بیٹی) – میری والدہ (مرحومہ)
  3. کوثر (بیٹی) – میری خالہ
  4. کیثر (بیٹی) – میری خالہ (مرحومہ)

میری والدہ شمیم کا انتقال نانی کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔ میری والدہ سے صرف ہم دو بہنیں ہیں۔ میری بڑی بہن کا انتقال کنواری حالت میں ہو گیا تھا، لہٰذا میں اپنی والدہ کی واحد وارث ہوں۔

بعد ازاں، میرے شوہر (مرحوم) نے میری اجازت یا اطلاع کے بغیر وہ زیورات فروخت کر دیے۔ جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں ضرورت تھی، اور انہوں نے زیورات 85,000 روپے میں فروخت کیے۔ میں نے سونار سے اس وقت کے سونے کی قیمت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سونے کی قیمت 2010 میں فی تولہ تقریباً 37,000 روپے تھی۔ اس حساب سے ان زیورات کی کل قیمت اُس وقت تقریباً 113,000 روپے بنتی تھی، لیکن ویسٹج وغیرہ کی کٹوتی کے بعد وہ 85,000 روپے میں فروخت ہوئے۔

اب، میں چاہتی ہوں کہ اللہ کے حضور میری کوئی پکڑ نہ ہو، اس لیے میں نے اپنے بچوں سے کہا ہے کہ یہ رقم اصل مالکان یا ان کے وارثان کو ادا کی جائے۔

آج، 2025 میں ان زیورات کی موجودہ قیمت درج ذیل ہے:

  • بندے: وزن 3.000 گرام – قیمت: 93,600 روپے
  • چوڑیاں: وزن 31.900 گرام – قیمت: 946,500 روپے
    • فی چوڑی کی قیمت: 236,625 روپے

حق والوں کی تفصیل یہ ہے:

  • کیثر خالہ (مرحومہ) کی ایک چوڑی کی قیمت: 236,625 روپے
    • ان کے وارثان: دو بیٹیاں
  • کوثر خالہ کی ایک چوڑی اور بندے کی مجموعی قیمت: 330,225 روپے

میں اپنے دل پر بوجھ نہیں رکھنا چاہتی، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ ان امانتوں کی قیمت موجودہ دور کے مطابق ادا کی جائے۔برائےمہربانی اس بارےمیں میری شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے شوہر کے لیے ہرگز جائز نہیں تھا کہ وہ آپ کے پاس لوگوں کی بطورِ امانت رکھے گئے زیورات کو فروخت کرتے۔ انہوں نے ایسا کرکے نہ صرف ناجائز عمل کیا بلکہ امانت میں خیانت کے بھی مرتکب ہوئے۔ ان پر لازم تھا کہ وہ زیورات کی ادائیگی کے وقت ان کی موجودہ قیمت اصل مالکان کو واپس کرتے۔ اگر مالکان وفات پا چکے تھے تو ان کی وراثت میں موجود حق داروں (ورثاء) کو وہ رقم لوٹاتے۔ تاہم، جب انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا نہیں کیا تو اب ان کے ورثاء پر لازم ہے کہ وہ ان کے ترکہ سے مذکورہ زیورات کی موجودہ قیمت اصل مالکان کو، اور اگر وہ زندہ نہ ہوں تو ان کے ورثاء کو لوٹائیں۔

حوالہ جات

قال للہ تعالی :فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه(بقرة: ۲۸۳)

وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «‌لا ‌إيمان ‌لمن ‌لا ‌أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان"۔(کتاب الایمان، الفصل الثانی، 1/17، المكتب الإسلامي - بيروت)

وفی المشکوة:

عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ. رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی. ( ص: ۲۵۵)

الفتاوی الھندیة:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق  ". (کتاب الودیعۃ، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، 4 /338 ط:  رشیدیہ)

وفی شرح المجلۃ:

إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم. (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز،

مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

23/10/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب