| 87321 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مستقبل میں جب میری وراثت تقسیم ہوگی تو سوتیلی بیٹی شفا کا حصہ کیا ہوگا اس میں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بچی کو سوتیلے والد کی میراث میں سے حصہ نہیں ملےگا،البتہ اگر والد زندگی میں اس بچی کوکچھ ہدیہ کرکے قبضہ دیدے یا اس کے لیے وصیت کرلے تو پھر وہ چیز بچی کو مل سکتی ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار " (6/ 774):
" ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
25/ شوال 1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


