03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث میں سوتیلی بیٹی کاحصہ
87321میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مستقبل میں جب میری وراثت تقسیم ہوگی تو سوتیلی بیٹی شفا کا حصہ کیا ہوگا اس میں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بچی کو سوتیلے والد کی میراث میں سے حصہ نہیں ملےگا،البتہ اگر والد زندگی میں اس بچی کوکچھ ہدیہ کرکے قبضہ دیدے یا اس کے لیے وصیت کرلے تو پھر وہ چیز بچی کو مل سکتی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار " (6/ 774):

" ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي"

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

25/ شوال 1446

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب