03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 ایچ آر کنسلٹنٹ کا بالواسطہ ملازم لانے پر کمیشن لینے کاحکم
87298اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میں نے ایک ایچ آر کنسلٹنٹ کو ملازمین تلاش کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔ ہمارا معاہدہ تھا کہ جو امیدوار وہ منتخب کرے گی، میں اسے اس امیدوار کی پہلی تنخواہ کا 40 فیصد ایک بار ادا کروں گا۔ اس نے ایک امیدوار کا تعارف کروایا، جسے میں نے منتخب کر لیا۔ بعد میں، اسی امیدوار نے ایک اور شخص کا خود سے تعارف کروایا (بغیر کنسلٹنٹ کی شمولیت کے) اور میں اس دوسرے شخص کو بھی رکھنا چاہتا ہوں۔ میرا عاجزانہ سوال ہے: کیا اسلامی اصولوں کے مطابق مجھے اس دوسرے شخص کی تنخواہ کا 40 فیصد بھی ایچ آر کنسلٹنٹ کو دینا واجب ہے، جب کہ اس نے اس کا تعارف نہیں کروایا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس معاملہ میں  کمیشن ایجنٹ کی اپنی محنت اور عمل شامل ہو اور وہ کام بھی جائز ہو تو  اس کا کمیشن  باقاعدہ طے کرکے لینا  جائز ہے، لیکن جس معاملہ میں کمیشن ایجنٹ کی  محنت شامل نہ ہوبلکہ وہ   کسی اور کی محنت کا ثمرہ ہو تو اس کا  کمیشن طے کرنا اور لینا جائز نہیں ہے۔

لہذا صورت مسئلہ میں  ایچ آر کنسلٹنٹ کی طرف سے منتخب  شدہ امید وارنے  اگر کسی   دوسرے شخص کا تعارف کروایا ہے  ، تو  اس بنیادپر  ایچ آر کنسلٹنٹ کو  اس دوسرے شخص کی تنخواہ کا 40 فیصد بطور کمیشن  دینا    ضروری نہیں، ان کے لیے بھی اس کامطالبہ کرنا جائز  نہیں ہوگا ،    کیونکہ اس میں  ایچ آر کنسلٹنٹ کاکو ئی عمل دخل  بھی نہیں ۔اور مسولہ صورت میں  آپ نے ان کیساتھ طے بھی نہیں کیا ۔

حوالہ جات

«مسند أحمد» (28/ 502 ط الرسالة):

«حدثنا يزيد، حدثنا المسعودي، عن وائل أبي بكر، عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع بن خديج، قال: قيل: يا رسول الله، أي ‌الكسب ‌أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63) :

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 47):

«‌إجارة ‌السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل.

جمیل الرحمن

دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

 28    /شوال /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب