03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا
87315طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے دو سال قبل اپنی بیوی کو زبانی ایک طلاق دی تھی، اور اب حال ہی میں میں نے اسے ایک ہی وقت میں غصے کی حالت میں تین طلاقیں دے دیں۔ میری بیوی نے اب مجھ سے رابطہ کیا ہے، اور ہم دونوں کو اپنی غلطی پر افسوس ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،اور ایک دوسرے کو اپنا گھر آباد کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔میں نے طلاق کی نیت سے ایک دفعہ یہ بولا کہ میری طرف سے تم فارغ ہو، اور اس کے تین ماہ بعد لڑکی کے والد کو یہ بولا کہ اگر اس کا یہی رویہ رہا تو یہ میری طرف سے فارغ ہے۔ اس کے بعد میں نے دارالافتاء لاہور سے فتوی لیا جس میں انہوں نے مجھے بتایا کہ اپ نے جو پہلی طلاق دی صرف وہی موثر ہوگی اور اب زندگی میں اپ کے پاس دو چانس ہیں۔ لیکن اس کے بعد میں نے تین طلاق اکٹھی دی اور واضح طور پر بولا کہ( میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) تین مرتبہ۔ میری گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں فتویٰ دیا جائے: 1. کیا میری طلاقیں واقع ہو چکی ہیں؟ 2. کیا تین طلاقیں ایک وقت میں شمار ہوں گی یا ایک؟ 3. اگر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں تو کیا حلالہ کی کوئی شرعی صورت موجود ہے؟ 4. حلالہ کی کیا شرائط ہیں؟ 5. کیا ہم دوبارہ بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتے ہیں؟ ہماری مکمل رہنمائی کی جائے تاکہ ہم کسی گناہ یا غلط قدم سے بچ سکیں۔

سوال کی تنقیح:  فون پر رابطہ کرکے معلوم ہو ا کہ تین طلاق  دینے سے پہلے انہوں نے تجدید نکاح کی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، ایسا کرنے والا سخت گناہ  گارہے، جس کی وجہ سے صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو وہ تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، میاں بیوی  کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔اب نہ تو رجوع کرنا جائز ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا جائز ہے، بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔   شوہر کا اب بیوی سے  کوئی تعلق رکھنا جائز نہیں ،نہ  حلالہ  کے بارے کوئی انتظام  کرنا جائز ہے۔

 البتہ مطلقہ عورت کےتین حیض عدت کے گزرنےکےبعدکسی اورمردسےنکاح اورہمبستری ہو،اس کےبعد دوسراشوہراس کو طلاق دیدےیااس کاانتقال ہوجائےتویہ عورت پہلی صورت میں عدت طلاق اوردوسری صورت میں عدت وفات گزارنےکےبعداسی(سابقہ)شوہرسےنئےمہراورگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔واضح رہےکہ حلالہ کےلیےطلاق کی شرط لگاکرنکاح کرناناجائزہے،احادیث میں اسی صورت پروعیدآئی ہےکہ حلالہ کرنےوالےاورکروانےوالےدونوں پراللہ کی لعنت  ہوتی ہے،اگرکسی نےاس طرح کیاتوبیوی پہلےشوہرکےلیےحلال توہوجائےگی،لیکن گناہ بہرحال ہوگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:

الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔فان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 233):

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين ‌إلى ‌أنه ‌يقع ‌ثلاث.

 «شرح النووي على مسلم» (10/ 70):

وقد ‌اختلف ‌العلماء ‌فيمن ‌قال ‌لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق( 10 / 247):

( قوله وكره بشرط التحليل للأول )أي كره التزوج للثاني بشرط أن يحلها للأول بأن قال تزوجتك على أن أحللك له أو قالت المرأة ذلك أما لو نويا كان مأجورا لأن مجرد النية في المعاملات غير معتبر ، وقيل المحلل مأجور ، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر كذا في البزازية ، والمراد بالكراهة كراهة التحريم فينتهض سببا للعقاب لما روى النسائي ، والترمذي ، وصححه مرفوعا { لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل ، والمحلل له } لأنه لو كان فاسدا لما سماه محللا ، ولو كان غير مكروه لما لعنه۔

جمیل الرحمن

دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

 28    /شوال /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب