| 87310 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں، مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
سائل کے تین حقیقی بھائی اور ایک بہن تھی۔ جن میں سے دو بھائی اور ایک بہن پہلے فوت ہوگئے تھے ۔ فوت شدہ بھائیوں میں سے ایک کی شادی نہیں ہوئی تھی اور وہ جوانی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔ جبکہ دوسرے فوت شدہ بھائی کے چاربیٹے اور آٹھ بیٹیاں زندہ ہیں ۔اب سائل کا تیسرا بھائی بھی فوت ہو گیا ہے۔ متوفی کے ورثہ میں ایک بیوہ، ایک حقیقی بیٹی ،سائل اور متوفی کی زندگی میں فوت شدہ بھائی کے چار بیٹے اور آٹھ بیٹیاں زندہ ہیں۔متوفی نے اپنے پیچھے منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد چھوڑی ہے ۔ متوفی کی وفات کے بعد ترکہ کی تقسیم کے متعلق ہونے والی مجلس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متوفی نے زندگی میں اپنے ایک بھتیجے کو بتایا تھا کہ میرے مرنے کے بعد منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد میں ایک مکان جو ایبٹ آباد میں واقع ہے، کیری ڈبہ (گاڑی)اور موٹر سائیکل میری بیٹی کا ہوگا ۔ جبکہ دیگر ترکہ جس میں ایک رہائشی مکان جس میں متوفی کی موت واقع ہوئی تھی اور زرعی اراضی کے بارے میں کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ۔نقدر رقم جو متوفی نے اپنے ایک چچازاد بھائی کے ساتھ کاروبار میں لگا رکھی ہے، اس کے بارے میں متوفی نے اپنے اس چچا زاد بھائی کو جس کےساتھ رقم کاروبار میں لگائی ہوئی تھی (متوفی شفاء اسپتال میں داخل تھا) سے یہ بات کہی تھی کہ میری وفات کے بعد اس رقم سے میری بیوی اوربیٹی کا خرچ وغیرہ چلتارہے گا۔ترکہ کے سلسلہ میں منعقدہ مجلس میں بحث مباحثہ کے بعد سائل نے وہ رہائشی گھر جس میں متوفی کی موت واقع ہوئی تھی گاڑی اور موٹر سائیکل سے اپنے حصہ کی حد تک متوفی کی بیوہ اور بیٹی کو زبانی طور پر چھوڑ دیا تھا۔ ہاتی ترکہ کے بارے میں سائل نے یہ گزارش کی تھی جتنا حصہ میرا بنتا ہے وہ مجھے دے دیا جائے۔ جس پر متوفی کی بیوہ اور بیٹی کی طرف سے ذمہ دار ( جو کہ متوفی کا بھی حقیقی بھتیجا ہے اور سائل کا بھی حقیقی بھتیجا ہے ) نے سائل کو روبرو تین افراد کے کہا کہ چچا جی میں آپ کے اس فیصلہ پر راضی ہوں،اس پر اس مجلس کا
اختتام ہو گیا،لیکن ابھی تک کوئی معاملہ حل نہیں ہوا ۔ اس لئے اس فتوی کی ضرورت پڑی ہے۔
اب درج ذیل سوالوں کے بارے میں فتوی درکار ہے کہ
1۔ متوفی نے اپنی بیٹی کے بارے میں جو وصیت کی ہے اس کا کیا حکم ہے؟
2۔ کیا جن اصولی اور فروعی ورثاء کے حصص کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کر دیئے گئے ہیں ان کے بارے میں وصیت کرنا جائز ہے ؟
3۔ کیا وصیت کو ثابت کرنے کے لئے اصول و فروع میں سےکوئی بھی شہادت دے سکتا ہے ؟
4۔ کیا متوفی نے جو وصیت کی ہے اس پر عمل کرنا شرعا لازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً کسی وارث کے لیے وصیت کرنا معتبرنہیں،وصیت صرف غیر وارث کےلیے ہوسکتی ہے، البتہ اگروہ کرلے اور مرحوم کے انتقال کے بعد ورثاء اپنی خوشی سے اس وصیت پرعمل کرلیں توایساکرناجائزہے، بشرطیکہ وہ سب عاقل بالغ ہوں۔ لیکن اگر ورثاء اس وصیت پر عمل کرنےکیلئےراضی نہ ہوں تو پھر اس طرح کی وصیت باطل ہوگی،اوراس کا اعتبارنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
وفی سنن أبى داود (3 / 73)
عن شرحبيل بن مسلم سمعت أبا أمامة سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول « إن الله قد أعطى كل ذى حق حقه فلا وصية لوارث ».
وفی الدر المختار (6 / 649)
وشرائطها أي شرائط الوصية۔۔۔(و) كونه (غير وارث) وقت الموت.
وفی الفتاوى الهندية - (6 / 90)
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية حتى لو أوصى لأخيه وهو وارث ثم ولد له ابن صحت الوصية للأخ……. وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/ شوال 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


