| 87314 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
مسئلہ یہ ہےکہ میں اورمیری بیوی نےپسندکی شادی کی تھی،لیکن ہمارےگھروالےراضی نہیں تھے،شادی کےڈیڑھ سال بعد میری فیملی کوشادی کاپتہ لگ گیا،جس کی وجہ سےہمارےگھریلوجھگڑےبڑھ گئے،گھروالوں نےمطالبہ کیاکہ تم اپنی بیوی کوطلاق دوتومیں نےطلاق دینےسےانکار کیا،میری والدہ بہت ناراض ہوگئی ،امی نےکہاکہ جب تک آپ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوگےمیں آپ سےراضی نہیں ہوں،مجبوری کی حالت میں طلاق نامہ پر سائن کیا،مفتی صاحب اس دوران میری بیوی حاملہ تھی اورمیری اولادبھی ضائع کرنےکااندیشہ تھا،حضرت میری راہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ والدین پسند کی شادی کی وجہ سےراضی نہیں تھے،تومجھےبیوی کو چھوڑنےپر مجبور کیا،میں تیارنہیں ہواتوانہوں نےکہاکہ حمل کاٹیسٹ کرواو اگرحمل ہےتواس کو ضائع کروادوتاکہ بچہ کا چکر نہ ہو،جب ٹیسٹ کروایاتو واقعتا حمل تھاتوانہوں نےکہاکہ طلاق دوورنہ حمل ضائع کروادیں گے،میں نےکہاکہ میں طلاق دیتاہوں،آپ حمل ضائع نہ کروائیں،اس وجہ سےتحریری طلاق نامہ پردستخط کردیے،سائل کاکہناہےکہ بچہ ضائع کرنےکی دھمکی کی وجہ سےمیں مجبورہوگیااورالفاظ سےطلاق نہیں دی تھی،البتہ تین طلاق کےطلاق نامہ پردستخط کردیےہیں۔اب میرےلیےکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت اسلامیہ میں جبر واکراہ یعنی زور اور زبردستی کے احکام علیحدہ ذکر کیے گئے ہیں، البتہ جبر اور اکراہ کے معتبر ہونے کے لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے درج ذیل چار شرائط ذکر کی ہیں:
پہلی شرط : جس شخص کی طرف سے دھمکی دی گئی ہو وہ اس کے پورا کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔
دوسری شرط : جس شخص کو دھمکی دی گئی ہو اس کا یقین یا غالب گمان ہو کہ دھمکی دینے والا شخص مذکورہ کام نہ کرنے کی صورت میں دھمکی پر عمل کر گزرے گا۔
تیسری شرط : جس چیز کی دھمکی دی گئی ہو وہ جان سے مار نا یا کسی عضو کو ضائع کرنا یا کوئی ایسی چیز ہو کہ اس کے خوف کی وجہ سے اس کام کے کرنے پر آدمی کی رضامندی باقی نہ رہے۔
چوتھی شرط : جس کام کے کرنے پر آدمی کو مجبور کیا جارہا ہو ، آدمی اکراہ اور زبردستی سے پہلے کسی شرعی یا انسانی حق کی وجہ سے اس کام کو نہ کر رہا ہو۔
مذکورہ بالا چاروں شرائط موجود ہوں تو اکراہ شرعاً معتبر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے شرعی حکم بدل جاتا ہے، اوراگریہ شرائط نہ پائی جائیں تو اکراہ شرعامعتبرنہیں ہوتا،ایسی صورت میں طلاق نامہ پردستخط کرنےسےطلاق واقع ہوجاتی ہے۔
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل اورتنقیح کے مطابق صورت مسئولہ میں اگرشوہرکویہ یقین یاظن غالب تھاکہ طلاق نہ دینے کی صورت میں والدین واقعتا حمل ضائع کروادیں گے،اس وجہ سےمزیدذہنی دباؤ اورڈپریشن میں شوہرنےطلاق نامہ پرسائن کردیےتومذکورہ بالا شرائط پائےجانےکی وجہ سےاکراہ شرعامعتبرہوگا،لہذااگرلکھتےوقت زبان سےطلاق کےالفاظ نہ بولےہوں ،بیوی کو طلاق دینےکی نیت بھی نہ کی ہوتومذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذا آپ دونوں(میاں بیوی ) کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور بیوی کا آپ سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
ہاں اگرشوہرکویقین تھاکہ والدین ویسےہی کہہ رہےہیں،حقیقتا حمل ضائع نہیں کرواسکتےتوایسی صورت میں یہ طلاق واقع شمار ہونگی۔
حوالہ جات
"رد المحتار"25 / 76:
( وشرطه ) أربعة أمور: ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني ( خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث : ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال ( و ) الرابع : ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آخر ) كإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا۔
"العناية شرح الهداية"13 / 150:
قال ( الإكراه يثبت حكمه إذا حصل ممن يقدر على إيقاع ما توعد به ) شرط الإكراه حصوله من قادر على إيقاع المتوعد به (سلطانا كان أو لصا)وخوف المكره وقوعه بأن يغلب على ظنه أنه يفعله ليصيربالإكراه محمولا على ما دعي إليه من المباشرة ، فإذا حصل بشرائطه يثبت حكمه على ما سيجيء مفصلا ولم يفرق بين حصوله من السلطان واللص(لأن تحققه يتوقف على خوف المكره تحقيق ما توعد به ، ولا يخاف إلا إذا كان المكره قادرا على ذلك ، والسلطان وغيره عند تحقق القدرة سيان ) الخ۔
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" 21 / 36:
وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان وفي الخانية ، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد
"رد المحتار" 10 / 458:
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔
"الفتاوى الهندية " 8 / 365:
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
28/شوال 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


