| 87317 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ہماری یونین کونسل کمال زئی میں تقریباً تین بستیاں آباد ہیں، جو کہ ہر ایک اپنے اپنے نام "مثلاً حاجزئی سیدان، کمالزئی، گوریان" کے ساتھ موسوم ہے۔ البتہ قانونی طور پر تینوں کا یونین کونسل ایک ہی ہے، جو کہ "کمالزئی یونین کونسل" سے یاد کیا جاتا ہے۔ بستیوں میں دو بستیاں ملی ہوئی ہیں، جن کے درمیان صرف ایک ندی نالہ ہے، جس میں عام طور پر بارشوں کے بعد پانی آتا ہے۔ تیسری بستی ایک کلومیٹر کے تہائی حصے کے برابر فاصلے پر ہے۔
تینوں بستیوں میں کچھ چیزیں مشترک ہیں، جن میں ایک چھوٹا سا سرکاری ہسپتال ہے، جس میں عام خاص اور چھوٹی بیماریوں (جیسے بخار، نزلہ، زکام وغیرہ) کا علاج و معالجہ ہوتا ہے، ایک ہائی اسکول، نیز دو محلوں کا قبرستان اور ٹیوب ویل بھی مشترک ہیں۔ جبکہ تیسرے محلے کا قبرستان اور ٹیوب ویل الگ ہے۔
ان محلوں کے درمیان ایک ندی نالہ ہے، جس میں بارش کے بعد پانی بہتا ہے۔ یہاں کی کل آبادی تقریباً 6876 ہے۔ کل 25 دکانیں ہیں، جن میں سات عدد خواتین کی دکانیں ہیں (جو کہ گھروں کے اندر ہوتی ہیں)، دو عدد میڈیکل اسٹور، ایک لوہار، دو عدد مکینک، اور ایک ویلڈنگ والا ہے۔ 11 عدد پرچون کی دکانیں ہیں، جن میں علاقے کے عرف کے مطابق بیکری کا سامان، ہارڈویئر، الیکٹرک، اور ٹیوب ویل کے بھی ایک آدھ آئٹمز موجود ہیں۔ اسی طرح مرغی (چکن)، بڑا گوشت، سبزی، فروٹ، پیٹرول و ڈیزل، اور ایل پی جی گیس بھی ملتی ہے۔
یہاں 12 عدد مساجد اور پانچ عدد اسکول ہیں۔ لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتائیں کہ یونین کونسل کمال زئی میں جمعہ واجب ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حنفیہ کے نزدیک گاؤں میں جمعہ کی نماز درست نہیں۔مگر گاؤں سے ایسی بستی اور علاقہ مراد ہے جو قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں) کی طرح نہ ہو، اور جو قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں) کی طرح ہو یعنی وہ اتنا بڑا ہو جس کی مجموعی آبادی چار ہزار افراد پر مشتمل ہو ،لیکن چار ہزار افراد کاہونا لازمی نہیں ہےبلکہ اس کا مدار عرف پر ہے، جس علاقے کو عرف میں بڑا گاؤں سمجھا جانےلگےوہ شہر ہی کے حکم میں سمجھا جائے گا۔وہاں ایسا بڑا بازار ہو، جس میں روز مرہ کی تمام اشیاء با آسانی مل جاتی ہوں ، ہسپتال ہو،خطیب ومنبر ہو ایسی بستی اور علاقہ کو شہر قصبہ یا بڑا گاؤں کہا جائے گا ۔
لہذا یونین کونسل کمال زئی کی جو حالت سوال میں لکھی گئی ہے اس کے مطابق اس میں موجودہ آبادی تقریباً 6876 سے متجاوز ہے ۔ اس جگہ کی ذکر کردہ تفصیل کے مطابق یہاں ضرورت کی تقریبا ساری چیز یں مل جاتی ہیں۔ اس حالت کے اعتبار سے وہ شہر یاقصبہ یا بڑے گاؤں کے حکم میں ہے جس کو فقہاء کرام نے قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں )سے تعبیر کر کے جمعہ کو صحیح کہا ہے ۔اور فقہاء کرام نے قریہ کبیرہ کے حوالے سے جو تعریفات نقل کی ہیں وہ درحقیقت تعریفات نہیں علامات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے موضع مذکورہ یونین کونسل کمال زئی میں جمعہ کی نماز درست ہے۔ مستفاد از تبویب((85907ھ
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 259):
«أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى، وعن أبي عبد الله البلخي أنه قال: أحسن ما قيل فيه إذا كانوا بحال لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة فهذا مصر تقام فيه الجمعة، وقال سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة، وسئل أبو القاسم الصفار عن حد المصر الذي تجوز فيه الجمعة فقال: أن تكون لهم منعة لو جاءهم عدو قدروا على دفعه فحينئذ جاز أن يمصر وتمصره أن ينصب فيه حاكم عدل يجري فيه حكما من الأحكام، وهو أن يتقدم إليه خصمان فيحكم بينهما.
وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.
«فيض الباري على صحيح البخاري» (2/ 423):
واعلم أنّ القرية والمِصْر من الأشياء العُرْفِية التي لا تكاد تَنْضَبِط بحالٍ وإن نُصَّ، ولذا ترك الفقهاء تَعريفَ المِصْر على العُرْف كما ذكره في «البدائع»
«الكوكب الدري على جامع الترمذي» (1/ 414):
وقيل ما فيه أربعة (2) آلاف رجال إلى غير ذلك، وليس هذا كله تحديدًا له بل إشارة إلى تعيينه وتقريب له إلى الأذهان وحاصله إدارة الأمر على رأي أهل كل زمان في عدهم المعمورة مصرًا فما هو مصر في عرفهم جازت الجمعة فيه وما ليس بمصر لم يجز فيه إلا أن يكون فناء المصر.
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
1 /ذی القعدہ /6144
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


