| 87224 | زکوة کابیان | صدقہ فطر کے احکام |
سوال
میری تنخواہ ساٹھ ہزار ہے,کیا میرے اوپر فطرانہ واجب ہے ؟جبکہ میں نصاب پر پورا نہیں اترتا اور میرے پاس کوئی سونا،چاندی وغیرہ بھی نہیں ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوٰۃ و صدقہ کا تعلق آمدن سے نہیں ،بلکہ بچت سے ہے۔ لہذا اگر تنخواہ لاکھوں میں آئے اور خرچ ہوجائے تو زکوۃ و صدقہ وغیرہ واجب نہ ہوگا۔ ہاں عید کے دن صبح صادق کے وقت اگر کسی کی ملک میں سونا ، چاندی ، نقدی ،مال تجارت اورضرورت سے زائد اسباب وسامان میں سے ایک سے زائد چیزیں موجود ہوں اور ان کی مالیت بقدر نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو، جو اس سال رمضان میں حکومت کے اعلان کے مطابق179,689روپے ہےتو اس پر صدقہ الفطر واجب ہے۔ البتہ صرف سونا ہو یا صرف چاندی ہو،دوسری کوئی چیز بالکل نہ ہوتو پھر سونا ساڑھے سات تولہ ہو اور چاندی ساڑھے باون تولہ ہوتو اس پر صدقۃ فطر واجب ہوگا ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 69):
«ومنها الغنى فلا يجب الأداء إلا على الغني وهذا عندنا، »
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
15/رمضان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


