03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آٹومیٹک واشنگ مشین میں پاک اور ناپاک کپڑے ایک ساتھ دھونا
87336پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

میں ملیشیا میں کام کرتا ہوں۔ یہاں بازاروں میں کپڑے دھونے کے لئے آٹو میٹک واشنگ مشینیں لگی ہوئی ہیں۔ ان مشینوں پر حلال کے سرٹیفکیٹ بھی لگے ہوتے ہیں، ساتھ لکھا بھی ہوتا ہے کہ یہ مشین اسلامک طریقے سے کپڑےدھوتی ہے۔ ایسی جگہ پاک اور ناپاک کپڑے ملا کر دھونے کا کیا حکم ہے ؟

مشین کام اس طرح کرتی ہے کہ مشین پہلی دفعہ پانی اور صرف لیتی ہے پھر تھوڑی دیر کپڑوں کو اچھی طرح گھماتی ہے،پھر پانی خارج کر کے نارمل سا سین کرتی ہے یعنی کپڑوں کو نچوڑتی ہے، لیکن مکمل طور پر نہیں نچوڑتی ۔ دوسری مرتبہ پھر صرف اور تازہ پانی لیتی ہے،دوبارہ پہلے کی طرح عمل کرتی ہے ۔  تیسری دفعہ پھر تازہ پانی لیتی ہے اور پہلی بار کی طرح تھوڑی دیرگھما کر پانی نکال دیتی ہے ۔ اور نارمل سا سپن کرتی ہے۔ چوتھی دفعہ پھر تازہ پانی اور سینیٹائزر لیتی ہے، تھوڑی دیر گھما کر پانی نکال دیتی ہے پھر اچھی طرح سپن کر کے کیڑوں کو اچھے طریقے سے نچوڑ دیتی ہے ۔کیا اس طرح دھلائی سے کپڑے پاک ہو جائیں گے ؟ اگر نہیں، تو اسی طرح مکمل طریقے سے دو مرتبہ دھو دینے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے ؟ کپڑوں پر نجاست کا کوئی اثر بھی نہیں رہتا اور غالب گمان بھی یہی ہے نجاست کے اثرات کپڑوں سے نکل جاتے ہوں گے۔ (مشین پہلی دو دفعہ جو سپین کرتی ہے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے کپڑے مکمل نچوڑ دیتی ہے یا نہیں، دیکھنے میں یہی معلوم ہوتا ہے کپڑے نچڑ گئے ہیں، کیوں کہ  باہر پانی نظر نہیں آتا،اور اس حالت میں مشین کو کھول کر بھی نہیں دیکھا جا سکتا ،کیوں کہ مشین لاک ہوتی ہےجو بیس منٹ مکمل ہونے کے بعد ہی کھول سکتے ہیں)۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جب مشین میں پہلی مرتبہ ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں دھویا، تو اس سے پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے ، اس کے بعد جب وہ مشین تین مرتبہ نیا پانی لے کر کپڑے دھوتی ہے اور ان کو ہر مرتبہ گھما کر کسی حد تک نچوڑ دیتی ہے ، تو اس طرح سب کپڑے پاک ہو جائیں گے ، دوبارہ کپڑے دھونے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

(حاشیۃ الطحطاوی)ص:161،162(

(ويطهر محل النجاسة غير المرئية بغسلها ثلاثاوجوبا) وسبعا مع الترتيب ندبا في نجاسة الكلب خروجا من الخلاف (والعصر كل مرة) تقديرا لغلبة.يعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثا إنما هو إذا غمسه في إجانة أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماء كثيرا بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثا فقد طهر مطلقا بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار والمعتبر فيه غلبة الظن هو الصحيح .

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

02/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب