| 87365 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری ایک بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، میری وفات کے بعد میرے ترکہ میں ان میں سے ہر ایک کا کتنا حصہ ہو گا؟ باقی میرے والدین اور دادا دادی وغیرہ کا انتقال ہو چکا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وراثت کا تعلق انسان کی موت کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی وفات کے وقت جو ورثاء موجود ہوں وہی وراثت کے حق دار ہوں گے اور اگر کسی وارث بننے والے شخص کا انتقال آدمی کی زندگی میں ہو جائے تو وہ آپ کی وراثت میں سے کسی حصہ کا حق دار نہ ہو گا، لہذا اگر آپ کی وفات کے وقت یہی ورثاء موجود ہوں جن کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اس صورت میں آپ کی وراثت یوں تقسیم ہو گی کہ متروکہ مال میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے اخراجات نکالنے، واجب الادا قرض ادا کرنے اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ بیوی کو دے دیا جائے گا اور بقیہ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا دیا جائے گا، ورثاء کے درمیان تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
وارث |
عددی حصہ |
فيصدی حصہ |
|
1 |
زوجہ |
6 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
29.166% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
29.166% |
|
4 |
بیٹی |
7 |
14.583% |
|
5 |
بیٹی |
7 |
14.583% |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
القرآن الکریم : [النساء:12]
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
/3 ذوالقعدة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


