| 86957 | امانت ودیعت اورعاریت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
ہماری والدہ کا پانچ سال پہلے انتقال ہو چکا ہے، ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں : عثمان ، اشرف ،خالد، یوسف،زبیر اور عائشہ ، بھائی (یوسف) نے والدہ کے ترکہ کو والدہ کی زندگی میں اپنے بہنوئی کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا تھا اور وہ سامان اب تک ان کے پاس موجود ہے اور اس سامان کا ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ وہ سامان کتنا تھا اور اس میں کیا کیا چیزیں تھیں۔ اب بھائیوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بالکل الگ الگ ہو چکے ہیں۔ بھائی (اشرف) اور ان کی اولاد کا یہ دعوی ہے کہ والدہ کے ترکہ میں جو چند چوڑیاں ہیں وہ ہماری ہیں ،والدہ نے اشرف کو دی تھیں اور اس بات پر ان کے پاس دو گواہ موجود ہیں ، ایک مرحومہ کی بہن اور ایک بیٹی ہے ،لیکن والدہ نے چند وجوہات کی وجہ سے چوڑیاں اشرف کے حوالے نہیں کیں،اسی دوران وہ بیمار ہوئی اور دار فانی سے کوچ کر گئی ۔ اب بہنوئی کا کہنا کہ سب مل کر میرے پاس آؤ گے تو میں تمہیں ترکہ تقسیم کر کے دوں گا، ورنہ نہیں ۔ ہم سارے پانچ بھائی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے تو اب ترکہ کیسے تقسیم کریں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طور پر کسی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ (جسے گفٹ دیا جا رہا ہے) اس پر قبضہ بھی دیا جائے، اگر بغیر قبضہ دئےکوئی چیز ہبہ کی جائے تو وہ ہبہ درست نہیں ہوگا۔
والدہ کا اشرف کو چوڑیاں دینا شرعاً ہبہ کے زمرے میں آتا ہے، لیکن چونکہ اشرف کو اس پر قبضہ نہیں دیا گیا، اس لیے یہ ہبہ درست نہیں ہوا۔لہٰذا اب اشرف کا ان چوڑیوں پر ملکیت کا دعویٰ کرنا بھی شرعاً درست نہیں ،یہ چوڑیاں ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم ہوں گی۔
رہی بات تقسیم کی کہ کیسے تقسیم کریں تو اس کے لئے سب ورثاء کا ایک جگہ جمع ہونا ضروری نہیں ہے ۔ صرف ان کی رضامندی ہی کافی ہے، بہنوئی کو چاہئے کہ جو ورثہ موجود نہیں ، ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے ان کی رضامندی معلوم کریں ، اگر وہ رضا مند ہوجاتے ہیں تو بہنوئی شرعی طریقے سے ترکہ تقسیم کر کےموجود ورثہ میں سے ہر ایک کو اس کا حصہ حوالے کریں اور جو موجود نہیں ان کا حصہ ان کے لئےمحفوظ کرلیں، بعد میں آکر وصول کرلیں گے ۔
حوالہ جات
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 222):
«الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح
بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 123):
«(ومنها) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا وإن شئت رددت هذا الشرط إلى الموهوب له لأن القابض والمقبوض من الأسماء الإضافية والعلقة التي تدور عليها الإضافة من الجانبين هي القبض فيصح رده إلى كل واحد منهما في صناعة الترتيب فتأمل والكلام في هذا الشرط في موضعين في بيان أصل القبض أنه شرط أم لا؟ وفي بيان شرائط صحة القبض.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
02/ رمضان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


