03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اگر آپ گھر سے نکل گئیں تو آپ کو طلاق ہے، لوگ تو یہ طلاق والا جملہ ایک مرتبہ کہتے ہیں اور میں یہ جملہ تین مرتبہ کہتا ہوں”کہنے کا حکم
87383طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے درج ذیل جملے کہے:

1۔رمضان سے کچھ پہلے کسی خاص معاملے کے حوالے سے شوہر نے بیوی سے کہا کہ آپ کے والد نے اس معاملے میں مجھے فون نہیں کیا ہے،لہذا اگر آپ اپنے والد کے گھر گئیں تو مجھ سے رہ جاؤگی۔

واضح رہے کہ اس کے بعد 28 رمضان المبارک تک بیوی اپنے والد کے گھر نہیں گئی۔

2۔ پھر تیسرے روزے کو بیوی سے کہا کہ اگر آپ گھر سے نکل گئیں تو آپ کو طلاق ہے، لوگ تو یہ طلاق والا جملہ ایک مرتبہ کہتے ہیں اور میں یہ جملہ تین مرتبہ کہتا ہوں۔ 

3۔ پھر 28 رمضان المبارک کی شام کو ایک مرتبہ پھر اس نے اپنی بیوی سے غصے کی حالت میں کہا کہ تمہارا موڈ  خراب ہے،لہذا گھر سے نکل جا۔

4۔ اسی طرح ایک موقع پر صبح کے وقت جب شوہر کام کیلئے روانہ ہوا تو بیوی سے کہا کہ شام کے وقت جب میں کام سے لوٹ آؤں تو آپ کو گھر میں موجود نہ پاؤں۔

ان تمام باتوں کے بعد مذکورہ خاتون کے سسر نے اس سے کہا کہ آپ اپنے والد کے گھر چلی جائیں،کیونکہ آپ کے شوہر نے اپنی زبان سے ایسے  خطرناک الفاظ بولے ہیں جن کے بعد اس گھر میں آپ کا رہنا مناسب نہیں ہے،چنانچہ 28 رمضان المبارک کو بیوی اپنے والد کے گھر چلی گئی،تو کیا مندرجہ بالا صورتوں میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،کیونکہ شوہر نے مختلف مواقع پر طلاق کے متفرق جملے بولےہیں،جن میں سے پہلے (اگر آپ اپنے والد کے گھر گئیں تو مجھ سے رہ جاؤگی) اور تیسرے جملے(تمہارا موڈ  خراب ہے،لہذا گھر سے نکل جا) سے طلاق واقع ہونے کا مدار اگرچہ شوہر کی نیت پر ہے،لیکن اگر شوہر کی ان جملوں سے طلاق کی نیت نہ بھی ہو تو بھی دوسرے جملے(اگر آپ گھر سے نکل گئیں تو آپ کو طلاق ہے، لوگ تو یہ طلاق والا جملہ ایک مرتبہ کہتے ہیں اور میں یہ جملہ تین مرتبہ کہتا ہوں) کی وجہ سے بیوی کے گھر سے نکلتے  ہی اسے تین طلاقیں واقع ہوگئیں،جن کے بعد بیوی شوہر پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اور اب موجودہ حالت میں ان دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(1/ 374):

"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال ،كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام :(ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام.

والأحوال ثلاثة :(حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين .وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا، كذا في الكافي. وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك ،فإنه لا يصدق فيها ،كذا في الهداية".

"الفتاوى الهندية" (1/ 375):

"ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك أو قال :لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى".

"الدر المختار " (3/ 355):

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :

"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".

"الدر المختار "(3/ 308):

"(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع ؛لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى أو أنت طالق بائن، أو قال:نويت البينونة الكبرى لتعذر حمله على الإخبار فيجعل إنشاء، ولذا وقع المعلق كما قال (إلا إذا كان) البائن (معلقا بشرط) أو مضافا (قبل) إيجاد (المنجز البائن) كقوله: إن دخلت الدار فأنت بائن ناويا ثم أبانها ثم دخلت بانت بأخرى ؛لأنه لا يصلح إخبارا".

"رد المحتار" (3/ 280):

"وقوله: أنت طالق مرارا بمنزلة تكرار هذا اللفظ ثلاث مرات فأكثر، والواقع بالأولى رجعي، وكذا بما بعدها إلى الثالثة ؛لأنه صريح، والصريح يلحق الصريح ما دامت في العدة، ولذا قيد بالمدخول بها ؛لأن غيرها تبين بالمرة الأولى لا إلى عدة فلا يلحقها ما بعدها، فاغتنم تحرير هذا المقام فقد خفي على كثير من الأفهام".

"الدر المختار " (3/ 467):

"(وصح إضافته إلى ملك، أو سببه) كإن نكحتك فكذا، حتى لو قال: إن تزوجتك فأنت علي كظهر أمي مائة مرة فعليه لكل مرة كفارة .تتارخانية".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ "(قوله: مائة مرة) يحتمل أن يكون حالا من مقول القول أي قال ذلك الكلام مكررا له مائة مرة، والأقرب المتبادر أنه حال من جملة جواب الشرط، فهو من تتمة مقول القول، وتكرر الظهار والكفارة على الأول ظاهر، وكذا على الثاني؛ بمنزلة ما لو قال أنت طالق مرارا، أو ألوفا حيث تطلق ثلاثا كما مر قبيل باب طلاق غير المدخول بها، بخلاف ما لو قال: أنت علي حرام ألف مرة وهي مدخول بها حيث تقع واحدة فقط، وقدمنا هناك وكذا في آخر الإيلاء الفرق بينهما بأن هذا بمنزلة تكرار هذا الكلام بقدر العدد المذكور، والحرام إذا كرر مرارا لا يقع به إلا واحدة لأنه بائن، بخلاف الطلاق؛ لأنه صريح يلحق مثله، والظهار يلحق الظهار أيضا كما سيأتي متنا، فافهم".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

05/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب