03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے الفاظ کے حوالے میاں بیوی میں اختلاف
87376طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

تقریبا پانچ سال قبل محمد ساجد ولد محمد نثار اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا،بقول شوہر کے اس نے بیوی سے یہ کہا تھا کہ میں تمہیں طلاق دوں گا،جبکہ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نے جھگڑے کے دوران یہ جملے بولے تھے:تمہیں طلاق دیتا ہوں،میری طرف سے تمہیں طلاق ہے اور تیسری بار یہ کہا  کہ میری طرف سے فارغ ہو۔

اب اس بارے میں کس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا؟کیا بیوی کو طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو کون سی طلاق ہوئی ہے؟ اور کیا شوہر کے ساتھ دوبارہ گھر بسانے کی کوئی گنجائش ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل جواب سے پہلے چند اصول بطورتمہید ملاحظہ ہو:

1۔ طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے،اس لیے جب وہ خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے سنے یا کوئی ایسا نیک آدمی اسے طلاق کی خبر دے جس کی بات پر اسے اعتماد ہو تو اس کے بعد عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں رہتا،اگرچہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو اور عورت کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔

2۔ طلاق صریح کے بعد جب ایسے کنایہ الفاظ بولے جائیں جن میں سابقہ صریح طلاق کی توضیح،تفسیر اور اس کے حکم کے بیان کا احتمال موجود ہو اور شوہر نے ان الفاظ سے دوسری طلاق کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوتی ہے۔("امداد المفتین":2/ 523)

لہذا اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو مذکورہ صورت میں دو بائن طلاقیں واقع ہوچکی تھیں،جن کے بعد تجدید نکاح کے بغیر میاں بیوی کا ساتھ رہنا جائز نہیں تھا،بلکہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری تھا،اس لئے اگر دونوں میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر تجدید نکاح کریں اور اب تک اتنا طویل عرصہ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر ندامت کے ساتھ کثرت سے توبہ و استغفار کریں۔

نیز تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف اور صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا،اس کے بعد بیوی حرمت غلیظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوجائے گی اور تجدید نکاح بھی ممکن نہیں رہے گا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (1/ 354):

" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".

"رد المحتار" (3/ 251):

" والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله".

"البحر الرائق " (9/ 302):

"قوله : ( أنت طالق بائن أو ألبتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كألف أو ملء البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو ثلاثا ) بيان للطلاق البائن بعد بيان الرجعي وإنما كان بائنا في هذه؛ لأنه وصف الطلاق بما يحتمله وهو البينونة فإنه يثبت به البينونة قبل الدخول للحال وكذا عند ذكر المال وبعده إذا انقضت العدة .

وأورد عليه أنه لو احتمل البينونة لصحت إرادتها بطالق ، وقد قدمنا عدم صحتها وأجيب بأن عمل النية في الملفوظ لا في غيره ولفظ "بائن" لم يصر ملفوظا به بالنية بخلاف طالق بائن ، وفيه نظر مذكور في فتح القدير.

 قيد بكون "بائن "صفة بلا عطف؛ لأنه لو قال : أنت طالق وبائن أو قال أنت طالق ثم بائن وقال:لم أنو بقولي" بائن" شيئا فهي رجعية ولو ذكر بحرف الفاء ، والباقي بحاله فهي بائنة ،كذا في الذخيرة. وأفاد بقوله" فهي واحدة إن لم ينو ثلاثا "أنه لو نوى ثنتين لا يصح لكونه عددا محضا إلا إذا عنى بأنت طالق واحدة وبقوله :بائن أو ألبتة أو نحوهما أخرى يقع تطليقتان بناء على أن التركيب خبر بعد خبر وهما بائنتان ؛لأن بينونة الأولى ضرورة بينونة الثانية ؛إذ معنى الرجعي كونه بحيث يملك رجعتها وذلك منتف باتصال البائنة الثانية فلا فائدة في وصفها بالرجعية وكل كناية قرنت بطالق يجري فيها ذلك".

"خلاصة الفتاوی"(9/ 302):

"وفی الفتاوی لوقال لامراتہ :انت طالق ،ثم قال للناس :زن من حرام ست وعنی بہ أو لانیة لہ فقد جعل الرجعی بائنا وإن عنی بہ الابتداء فھی طلاق آخر بائن ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

05/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب