03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیچے گھراوراوپرمدرسہ بنانا
87371وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے پاس ایک پلاٹ تھا جس کی مالیت تقریباً ساڑھے چھ لاکھ روپے تھی۔ ایک مولانا صاحب نے گزارش کی کہ یہ پلاٹ مجھے دے دیں، میں یہاں مدرسہ بنانا چاہتا ہوں۔ تو میں نے ثواب کی نیت سے اس کی قیمت ساڑھے چار لاکھ روپے طے کر دی۔ تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک رقم مکمل ادا نہیں ہو سکی، اور اب تک صرف اڑھائی لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔

اب مولانا صاحب کہتے ہیں کہ میں نیچے مکان بناؤں گا اور اوپر مدرسہ قائم کروں گا۔ جبکہ یہ پلاٹ صرف مدرسہ بنانے کی نیت سے کم قیمت پر دیا گیا تھا۔ مولانا صاحب کا پانچ مرلے کا پلاٹ پہلے سے موجود ہے۔ اب وہ مدرسے کی جگہ پر بھی مکان بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ مکمل دس مرلے میں رہائش اختیار کر سکیں۔

گزارش ہے کہ کیا مولانا صاحب کا اس پلاٹ پر مکان بنانا درست ہے، جب کہ یہ پلاٹ صرف مدرسہ بنانے کی نیت سے کم قیمت میں دیا گیا تھا؟ اور یہ بات پورے محلے کو بھی معلوم ہے کہ یہاں مستورات کا مدرسہ بننا ہے۔ اگر اب وہاں مکان بنایا جاتا ہے تو اہلِ محلہ کیا سوچیں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مذکورمولاناصاحب نے اپنی ذاتی رقم سے مذکورہ پلاٹ خریدا ہو اور اسے وقف نہ کیا ہو، تو اگرچہ ان کے لیے اس طرح غلط بیانی کرکے قیمت کم کرانا مناسب نہیں، تاہم چونکہ پلاٹ ان کی ذاتی ملکیت ہے، اس لیے اس پر نیچے گھر بنانا جائز ہے۔ اور چونکہ فروخت کنندہ پلاٹ فروخت کرکے معاملے سے الگ ہو چکا ہے، لہٰذا اب اسے اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے۔

اور اگر مذکور مولاناصاحب نے چندے کی رقم سے وہ پلاٹ خریدا ہو، یا اپنی ذاتی رقم سے خرید کر اسے وقف کیا ہو، تو ان کے لیے اس پلاٹ پر اپنا ذاتی مکان بنانا جائز نہیں ہے۔ البتہ، اگر وہ مکان مدرسے کے لیے بنائیں، اور مدرسہ اس کے اوپر تعمیر کیا جائے تاکہ پردے وغیرہ میں سہولت ہو، تو اس صورت میں بطور ملازمِ مدرسہ ان کے لیے اس مکان میں رہنا جائز ہوگا۔ تاہم، اس صورت میں ضروری ہے کہ ذاتی مکان سے اس کی تعمیر

سے عوام الناس کے دینی جذبات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(6/ 263)

حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة .... للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.

فی ردالمحتار(۴ / ۴۳۳):

قولهم: شرط الواقف ‌كنص ‌الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به )کتاب الوقف .

وفیہ أیضاً   (۴ / ۳۵۸):

لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح.

وفی البحر الرائق(۵/ ۲۷١):

 لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح .

 وفی الشامیة(4/367دارالفکر):

) ويبدأ من غلته بعمارته ) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

05/11/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب