| 87384 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم 4 بہنیں 1 بھائی تھے ،ماں باپ کا انتقال ہو گیا اور بھائی کا بھی ۔ابا کا انتقال 1986میں، امی کا 1987 میں اور بھائی کا 2020 میں ہوا۔ والدین وراثت میں 15 کروڑ چھوڑ کر گئے تھے، جو اب بھائی کی وفات کے بعد تقسیم ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب تقسیم کیسے ہوگی؟ بھائی کی بیوہ ہے، اولاد نہیں ہے اور ہم چار بہنیں زندہ ہیں۔ 15 کروڑ کی تقسیم اور بھائی کے حصے کی تقسیم کیسے ہو گی؟ قران و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
تنقیح:مرحوم بھائی کا نام اقبال ہے اور مذکورہ ورثاء کے علاوہ صرف ایک تایا زاد بہن زندہ ہیں باقی کوئی بھی زندہ نہیں۔بہنوں کے نام شمیم ممتاز،رانی، یاسمین خان، صبیحہ شبیر ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں سب سے پہلے والدین کی میراث تقسیم ہو گی ۔کل میراث کے 6حصے بنیں گے اور میراث ایک بیٹےاور 4 بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بیٹے کوبیٹی کےحصےکادوگناملے۔
فیصدی اعتبارسے کل میراث میں سے 33.33333% بیٹےکاہوگا،اور ہر بیٹی کو % 16.66666حصہ دیاجائےگا۔والدین کی میراث کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہو گی:
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
ترکہ میں حصہ |
|
بیٹا(اقبال) |
2 |
33.33333% |
5,00,00,000 |
|
بیٹی (شمیم ممتاز) |
1 |
16.66666% |
2,50,00,000 |
|
بیٹی (رانی) |
1 |
16.66666% |
2,50,00,000 |
|
بیٹی (یاسمین خان) |
1 |
16.66666% |
2,50,00,000 |
|
بیٹی (صبیحہ شبیر) |
1 |
16.66666% |
2,50,00,000 |
|
مجموعہ |
6 |
100% |
15,00,00,000 |
والدین کی میراث کی تقسیم کے بعد بھائی کی میراث تقسیم کی جائےگی،جس میں ان کواپنےوالدین سےملنےوالاحصہ یعنی ٹوٹل 33.333333% حصہ (5,00,00,000روپے ) ان کےورثہ میں تقسیم ہوگا۔
مرحوم بھائی کی بیوہ کو ربع(چوتھا حصہ)ملے گا، بیوہ کاحصہ نکالنےکےبعدباقی میراث 4بہنوں میں برابرتقسیم ہوگی ۔ مرحوم بھائی کی میراث درج ذیل طریقہ سے تقسیم ہو گی:
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
ترکہ میں حصہ |
|
بیوہ |
4 |
8.33333% |
1,25,00,000 |
|
بہن (شمیم ممتاز) |
3 |
6.2500% |
93,75,000 |
|
بہن ( رانی) |
3 |
6.2500% |
93,75,000 |
|
بہن ( یاسمین خان) |
3 |
6.2500% |
93,75,000 |
|
بہن ( صبیحہ شبیر) |
3 |
6.2500% |
93,75,000 |
|
مجموعہ |
16 |
33.333333% |
5,00,00,000 |
کل میراث کے 48 حصے بنائے جائیں گے ، مرحوم بھائی کی بیوہ کو 4 حصے اور ہر بہن کو 11,11حصے ملیں گے۔زندہ ورثاء کا کل ترکہ درج ذیل ہو گا:
المبلغ : 48
الاحیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
ترکہ میں حصہ |
|
مرحوم بھائی کی بیوہ |
4 |
8.333333% |
1,25,00000 |
|
شمیم ممتاز |
11 |
22.916666% |
3,43,75000 |
|
رانی |
11 |
22.916666% |
3,43,75000 |
|
یاسمین خان |
11 |
22.916666% |
3,43,75000 |
|
صبیحہ شبیر |
11 |
22.916666% |
3,43,75000 |
|
مجموعہ |
48 |
100% |
15,00,00,000 |
حوالہ جات
[النساء: 11]
﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾
[النساء: 12]
﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ﴾
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
7/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


