03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ضرورت سے زائد سامان کا زکوٰۃ میں حساب
87423زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میری اہلیہ کے پاس  اتنا سونا اور چاندی موجود ہے، جس کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب بنتی ہے ۔اہلیہ کو جہیز کے اندر کافی سارا سامان ملا ہے ،  فریج مشینری وغیرہ جو کہ بند پڑا ہے، اور بوقتِ ضرورت مستقبل میں استعمال کیا جائے گا۔ کیازکٰوۃ کا حساب کرتے وقت مذکورہ ضرورت سے زائد سامان کا حساب زکٰوۃ کے لیے کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اموال ِ زکوٰ ۃ صرف چار ہیں :1۔ سونا، 2۔ چاندی، 3۔ نقدی، 4۔ مال تجارت ۔ زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت انہی اموال کا حساب کیا جاتا ہے ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ بالاضرورت سے زائد سامان کا  زکٰوۃ  کے لئے حساب  نہیں کیا جائے گا ۔

حوالہ جات

( الدر المختار مع رد المحتار :۲۶۵/۲، کتاب الزکاة، ط: دار الفکر، بیروت ):

(ولا فی ثیاب البدن) لمحتاج إلیہا لدفع الحر والبرد ابن ملک (وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوہا) وکذا الکتب وإن لم تکن لأہلہا إذا لم تنو للتجارة۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب