03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پانچ تولہ طلائی زیورات پر زکوٰۃ کا حکم
87422زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میری اہلیہ کے پاس پانچ تولےزیورات طلائی موجود ہیں،اس کے ساتھ چاندی اور مالِ تجارت  وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔  میں(خاوند) اپنی اہلیہ کو ہر مہینے تین ہزار روپے (بچوں اور اس کی)ضرورت کے لیے دیتا ہوں، جو تقریباً ہر مہینے  یا دو سے تین مہینے میں ختم ہو جاتے ہیں ،  اس  نقد پیسے پر کبھی سال نہیں گزرتا، نیزکوئی پیسے بھی ایسے نہیں جن پرپوراسال گزرا ہو، سال میں کئی دن ایسے بھی آتے ہیں کہ کچھ روپے بھی ملکیت میں نہیں ہوتے۔ کیا میری اہلیہ زکوۃ کے لیے صاحبِ نصاب ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی کے پاس سونا نصاب سے کم ہو لیکن اس کے پاس سونے کے ساتھ چاندی یا  نقدی یا مال ِ تجارت (جو چیز فروخت کرنے کی نیت سے خریدی ہو اور یہ نیت برقرار ہو ) بھی ہو اور ان سب کو ملا نے سے ان کی قیمت ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو ان پر سال گزرنےپر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔ پانچ تولہ سونے کے زیورات اگرچہ سونے کے نصاب سے کم ہیں مگر ان  کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی  کی قیمت سے زیادہ بنتی ہے ، لہٰذا  مذکورہ خاتون کے پاس جس دن ان طلائی زیورات کے ساتھ کچھ بھی  نقدی،چاندی یا مال ِ تجارت جمع ہوا  ، جن کی مجموعی قیمت  ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جاتی ہے  ، اس  دن سے زکوٰة کا سال شروع ہوا، آئندہ اس تاریخ کو اگر اس کے پاس اتنا سونا اور نقدی موجود ہوں جو ساڑے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائیں تو اس کی زکوٰة ادا کرنا واجب ہو گا، نقدی  یا کسی بھی مال  ِ زکوٰ ۃ پر الگ الگ پورا سال گزرنا  ضروری نہیں، بلکہ ہر سال صاحب ِ نصاب بننے کی قمری تاریخ کو حساب کیا جائے گا ، اگر نصاب پورا ہو تو زکوٰ ۃ لازم جائے گی ۔  

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 179) :وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي.

 تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 281) :

(قوله ويضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة) أي وهذا بالإجماع اهـ كي (قوله وإن اختلفت جهة الأعداد) أي فالثمنان للتجارة وضعا والعروض جعلا.

 البناية شرح الهداية (3/ 389):

 (هو يقول) ش: أي أبو حنيفة يقول: م: (إن الضم للمجانسة) ش: أي ضم الذهب إلى الفضة للمجانسة بينهما في الثمنية م: (وهو) ش: أي المجانسة م: (يتحقق باعتبار القيمة دون الصورة) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب