| 87409 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہم پرنٹنگ کے لئے جیلا ٹن استعمال کرتے ہیں ، ہاتھوں پربھی جیلا ٹن لگ جاتی ہے ، اس کو ابالا بھی جاتا ہے، جیلاٹن کو ہم گرم کر کے اس کے ساتھ مصالحہ بنا کر استعمال کرتے ہیں ،اسے ہم ڈائی کے طور پر یعنی کہ ایک مہر کے طور پر بناتے ہیں اور اس کے اوپر الفاظ وغیرہ ( دینی الفاظ ) آ جاتے ہیں، بعد میں وہ صاف تو ہو جاتا ہے، یعنی اس کو صاف کر دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں اگر کچھ وضاحت ہو تو بتا دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ خنزیر سے حاصل شدہ جیلاٹن کا استعمال کسی طرح جائز نہیں،نہ خارجی اور نہ داخلی،البتہ حلال جانور، جیسے :گائےیا مچھلی یا نباتات سے حاصل شدہ جیلاٹن کا خارجی استعمال جائز ہے،جبکہ داخلی استعمال کی بوقت ضرورت مثلا علاج معالجے کے لئے گنجائش ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں آپ جو جیلاٹن استعمال کرتے ہیں اگر وہ خنزیز سے حاصل شدہ ہو تو اس کا استعمال جائز نہیں اور اگر نباتات یا حلال جانور سے حاصل شدہ ہو تو پھر اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
"فقہ البیوع" (1/ 307):
"وبما أن عظم حیوان غیر مذکی طاھر وأن جلدہ یطھر بالدباغ،فإن الجیلاتین المتخذ منھما طاھر ویجوز استعمالہ فی غیر الأکل باتفاق الحنفیة، أما استعمالہ فی الأکل ،فالصحیح المفتی بہ عند الحنفیة أنہ لایجوز،ولکن ھناک قول عند الحنفیة والشافعیة فی جواز أکلہ ویسوغ العمل بہ للتداوی بالکیبسولات المتخذة من الجیلاتین،بشرط أن لاتکون متخذة من جلد الخنزیر أو عظمہ...
أماالبیع والشراء فیجوز فی غیر المتخذ من الخنزیر؛لأنہ طاھر حسبما ذکرناہ،والانتفاع بہ ممکن بطریق مشروع ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
08/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


