03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کنوینشنل اور اسلامی بینک کو   خدمات فراہم کرنے کا حکم
87516اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میری اپنی ایک کنسٹرکشن کمپنی ہے جو مختلف تعمیراتی اور مرمتی کاموں میں مصروف ہے۔ حال ہی میں میری ایک ایسی کمپنی سے وابستگی ہوئی ہے جو مختلف بینکوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور ان بینکوں سے متعلق متعدد کام انجام دیتی ہے۔ یہ کمپنی مجھے درج ذیل نوعیت کے کام دیتی ہے:

 1. پرانی عمارتوں کو اس طرح تعمیر و ترمیم کرنا کہ وہ نئی بینک شاخوں کے طور پر استعمال کی جا سکیں۔ اس میں مکمل ڈھانچے کی تبدیلی، اندرونی تزئین، شیشے، ٹائلز، سیلنگ اور دیگر تعمیراتی کام شامل ہیں۔

 2. بینک کی موجودہ شاخوں کی مرمت اور بحالی کا کام، جس میں شامل ہیں: الیکٹریکل ورک ،لکڑی کا کام ،ایئرکنڈیشنر (AC) کی تنصیب و مرمت ، ٹائل ورک، واش روم کی تیاری ،رنگ و روغن اور دیگر ضروری تبدیلیاں  وغیرہ۔

3. بعض اوقات بینکوں کو ان کے اندرونی استعمال کے لیے چھوٹا موٹا سامان اور اسٹیشنری بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

 میرا سوال یہ ہے کہ:

  1. کیا میرے لیے اس کمپنی کے تحت (جو بینکوں سے رجسٹرڈ ہے) یہ تمام کام انجام دینا شرعاً جائز ہے؟
  2. . اگر میں خود براہِ راست بینکوں سے رجسٹر ہو کر یہ کام حاصل کروں اور انجام دوں، تو کیا وہ صورت شرعی اعتبار سے درست ہے؟
  3. . ان بینکوں میں جن سے میرا واسطہ ہے، درج ذیل اسلامی بینک شامل ہیں: میزان بینک، یو بی ایل امین اسلامک بینک، اور الفلاح اسلامک بینک۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بینک دو قسم کے ہوتے ہیں:

ایک قسم اسلامی بینک ہیں، جیسے میزان، البرکہ اور فیصل بینک  وغیرہ۔ یہ بینک (فی الحال) شرعی ایڈوائزری بورڈ کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان کو کسی دوسری کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعے یا براہِ راست اپنی خدمات فراہم کرنا جائز ہے۔

دوسری قسم سودی (کنوینشنل)  بینک  ہیں۔ ان کو خدمات فراہم کرنے کے متعلق تفصیل درج ذیل ہے:

ایسی  خدمات فراہم کرنا جن کا براہِ راست سودی معاملات میں معاونت سے تعلق ہو، جیسے: سودی بینک کے لیے بلڈنگ کرایہ  پر دینا (بشرطیکہ پہلے سے یہ علم ہو کہ یہاں سودی بینک کھلے گا)، یہ گناہ کے کام میں معاونت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔تاہم ایسی خدمات فراہم کرنا جن کا براہِ راست سودی معاملات میں معاونت سے تعلق نہ ہو،  تو  اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر فراہم کردہ خدمات "سبب قریبہ" (یعنی ایسا سبب جو براہِ راست اور فوری طور پر معصیت کے وقوع میں مؤثر ہو) کے درجے میں ہوں، تو ان کا انجام دینا ناجائز اور حرام ہے۔ جیسے: بینک کی نئی شاخ کی تعمیر،   اس میں ایئر کنڈیشننگ کا کام، یا عمومی تزئین و آرائش ،اس کی عمارت کی مرمت  جوخاص طور پر سودی معاملات کے لیے تیار کی جا رہی ہو، یہ تمام امور گناہ میں براہِ راست معاونت کی تعریف میں آتے ہیں، اور  حکم خداوندی  {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} کے تحت حرام ہیں۔اگر خدمات "سبب بعید" کے درجے میں ہوں، یعنی معصیت کا وقوع ان خدمات کے ذریعے براہِ راست نہ ہو رہا ہو، بلکہ درمیان میں دیگر عوامل(احداثِ صنعۃ) کی ضرورت ہو، تو ایسی صورت میں حکم مختلف ہوگا۔ مثلاً: بینک  کیلئے جگہ کرایہ پر دیناجب ، ان صورتوں میں اگرچہ یہ معصیت کے لیے ایک بالواسطہ سبب بن رہی ہیں، لیکن چونکہ یہ براہِ راست سودی عمل میں معاونت نہیں کر رہیں، اس لیے یہ مکروہِ تحریمی کے درجے میں آتی ہیں، اور ان سے اجتناب ضروری ہے۔

لہٰذاصورتِ مسئولہ میں   مذکورہ خدمات  (براہِ راست یا کسی کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعے)  اسلامی بینک کو فراہم کرنا جائز ہے۔ جہاں تک  کنوینشنل بینک کو مذکورہ خدمات فراہم کرنے کا تعلق ہے، تو اس کا حکم یہ ہے  کہ اگر یہ خدمات براہِ راست بینک کی نئی شاخ کی تعمیر یا مرمت کے لیے ہوں اور ان کا مقصد سودی معاملات کو فروغ دینا ہو، تو یہ کام شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ یہ معصیت میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ ،اگر مرمت یا تعمیر کا کام  یا دیگر کوئی خدمات ایسی ہوں جو کسی عمومی مقصد کے لیے ہوں  اور براہِ راست سودی معاملات کو تقویت نہ دیں، جیسے بینک کی صفائی، تزیین و آرائش، یا غیر مالیاتی دفاتر کی مرمت، تو ایسی صورت میں یہ کام مکروہِ تحریمی کے درجے میں شمار ہوں گے، اور ان سے اجتناب ضروری ہے۔ بہتر متبادل یہ ہے کہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاہدہ کیا جائے، جو شرعی ایڈوائزری بورڈ  کی نگرانی میں کام کرتے ہیں، یا غیر سودی اداروں کو تعمیراتی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ آمدنی مکمل طور پر حلال اور پاکیزہ ہو۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 391):

قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل.

جواھر الفقہ:(8 45/2)

ثم السبب إن كان سبباً محركاً وداعياً إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصية بنص القرآن كقوله تعالى:" وَلا تَسُبُوا الذِينَ يَدْعُونَ من دون الله " الأنعام (۱۰۹) وقوله تعالى فَلَا تَخْضَعْنَ بالقَول (الأحزاب: ۳۲) وقوله تعالى: وَلَا تَبرجْنَ الآية (الأحزاب:۳۳).

وإن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممّن يعصى به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروة تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والآجر، من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرّح كان داخلاً في الإعانة المحرمة. وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يُفضى إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتُكرَهُ تنزيهاً.

فقہ البیوع(192/01):

ويتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة على المعصية بإحدى الوجوه الثلاثة المذكورة(الإعانة حقيقةً هى ماقامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق إلا بنية الإعانة، أو التصريح بها، أو تعينها في استعمال هذا الشيئ بحيث لا يحتمل غير المعصية)، فإن العقد حرام لا ينعقد، والبائع آثم. أما إذالم يقصد ذلك، وكان البيع سبباً للمعصية، فلايحرم العقد، ولكن إذا كان سبباً محركا، فالبيع حرام، وإن لم يكن محركاً، وكان سبباً قريباً بحيث يُستخدم في المعصية في حالتها الراهنة، ولايحتاج إلى صنعة جديدة من الفاعل، كُره تحريما  وإلا فتنزيهاً.وعلى هذا يُخرج حكم بيع البناء أو إجارته لبنك ربوى. فإن قصد البائع الإعانة، أو صرح في العقد بكونه يُستخدم للأعمال الربويّة حرم البيع وبطل والظاهر أن تصريح المستأجر حينما يعقد البيع أو الإجارة لإقامة فرع للبنك مثلاً، فإنّه فى حكم التصریح بأن البناء يستعمل للأعمال الربوية. أما إذا بيع البناء أو أجر لغرض آخر للبنك، مثل التخزين وغيره، فلا يدخل في ذلك الحكم، وليس سبباً قريباً للمعصية، فينبغي أن يجوز مع الكراهة تنزيهاً.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   10  /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب