| 87391 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
میری شادی کے چھ سال بعد میری طلاق ہو گئی۔ میری دو بیٹیاں تھیں۔ طلاق کے وقت بچیوں کی ماں نے بچیوں کو لینے سے منع کردیا اور کہا میں بچیوں کی ذمہ دریاں نہیں اٹھاؤں گی ،صرف ملاقات کروں گی ۔ اس کے بعد میں نے دو بار بچیوں کو اس کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے مل سکیں۔ لیکن اس نے بچیوں کو میرے بارے میں غلط باتیں بتانا شروع کر دیں، جس کی وجہ سے میں نے بچیوں کو اس سے ملنے سے روک دیا۔
اس کے بعد اس کی طرف سے کوئی پیغام نہیں آیا کہ وہ بچیوں سے ملنا چاہتی ہے یا نہیں۔ اب میری دوسری شادی ہو چکی ہے ۔ میں نے آج تک اپنی بیٹیوں کو ان کی ماں کے بارے میں کچھ نہیں کہا، بلکہ خاموشی اختیار کی۔
میری بیٹیاں اب ایک 12 سال کی اور ایک 10 سال کی ہو چکی ہیں۔ اگر کبھی کسی جگہ ان کی ماں اور بیٹیوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو کوئی بات چیت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کسی اور موقع پر اسے موقع ملے تو وہ میرے خلاف ان سے باتیں شروع کر دیتی ہے۔میں اسلامی لحاظ سے جاننا چاہتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاًجب لڑکےکی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہوجائے تو پھر ان کی پرورش باپ کے ذمےہے۔والدین میں سے بچے جس کے بھی پاس ہوں ،وہ دوسرے کو بچوں کی ملاقات سے روک نہیں سکتا ۔
بچوں کی ماں کو چاہیے کہ بلاوجہ بچوں کے دل میں ان کے والد کی بے توقیری اور نفرت پیدا نہ کرے، بلکہ والد کی عزت و احترام اور محبت کا درس دے، لیکن اگر وہ پھر بھی ایسا کرتی ہے تو آپ بچوں کو ملاقات کسی دوسری خاتون کی نگرانی میں کچھ وقت کے لئےکرنے دیا کریں،تاکہ وہ بچوں کو اکسا نہ سکے۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص257):
وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها، فليحفظ.قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الام وأخذه الاب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك.قال ابن عابدين: في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 543):
الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
8/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


