| 87408 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
تقوی کے اعتبار سے حصص کا کاروبار کرنا شرعا درست ہے یا اس سے بچنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شیئرز درحقیقت کمپنی کے مخصوص مشاع حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، جس پر حقیقی قبضہ ممکن نہیں ہوتا، اس لیے شیئرز کی خریدفروخت آن لائن اسکرین پر ہی کی جاتی ہے اور پھر اسٹاک ایکسچینج میں کی جانے والی خریدوفروخت كی بہت سی ایسی اقسام رائج ہیں جو شرعی نقطہٴ نظر سے جائز نہیں، الغرض اسٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں بہت سے مسائل شریعت سے متعلق ہیں، شیئرز کا کاروبارکرنے کے لیے جن کا جاننا بہت ضروری ہے، لہذا اسٹاک ایکسچینج میں درج ذیل شرائط کو مدِنظر رکھتے ہوے حصص کی خریدوفروخت اور پیسے انویسٹ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں:
1۔ جس کمپنی کے شئیرز خریدنا چاہتے ہیں اس کاکاروبار حلال ہو۔ اگر کمپنی کا کاروبار غیر شرعی ہو، جیسےمروجہ غیر اسلامی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں ،ا سی طرح شراب بنانے والی اور بنیادی طور پرسود ی کاروبارکرنے والی کمپنیوں کے شئیرز خریدناجائز نہیں ۔
2۔ اس کمپنی کا کاروبار واقعۃً شروع ہوچکا ہو اور اس کمپنی کی املاک مثلا ً عمارت اور مشینری وغیرہ وجود میں آچکی ہوں اور نقد اثاثے صرف پلاننگ اور منصوبہ بندی تک محدود نہ ہوں ۔ اگر کمپنی صرف منصوبہ بندی اور نقد اثاثوں تک محدود ہو اور کاروبار شروع نہ ہوا ہو تو شئیرز کو صرف ان کی اصل قیمت (Face Value) پر خریدنایا بیچنا جائز ہے،ا س سے کم وبیش پر خریدنا بیچنا جائز نہیں ۔
3۔ نفع ونقصان دونوں میں شرکت ہو ،یعنی اگر کمپنی کو نفع ہو تو شئیرز کے خریدار بھی نفع میں شریک ہوں گے اور اگر نقصان ہوتو اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان میں بھی شریک ہوں گے ۔
4۔ نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو یعنی نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقررنہ ہو ،بلکہ فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیاگیا ہوکہ جو نفع ملے گا اس میں سے اتنے فیصد کمپنی کا ہوگا اور اتنے فیصد شئیر ہولڈر میں تقسیم کیاجائے گا۔
5۔ شئیرز خریدنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی طور پر بھی کسی ناجائزکاروبار میں ملوث نہ ہو اوراگر ہو تو اس ضمنی کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب اس کی مجموعی آمدنی میں معتد بہ مثلا ً پانچ فیصد نہ ہو ( جیسا کہ اس کی پابندی آج کل کے اسلامی مالیاتی اداروں میں کروائی جارہی ہے )، نیزاس صورت میں بھی شئیرز خریدنے والا اس ارادے سے خریدے کہ وہ کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات کرنے سے ہر طرح منع کرےگا ، تحریری طور پر بھی اور خصوصاً کمپنی کےسالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ نہ کرے اور کم از کم ہمارا سرمایہ کسی حرام اور ناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔
6۔شق نمبر5 کے پیش نظر جب کمپنی سے سالانہ نفع وصول ہو تو شئیرز رکھنے والاا س کمپنی کی بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کمپنی نے کتنے فیصد سرمایہ ناجائز کاروبار میں لگاکر نفع حاصل کیاہے؟پھر اس ناجائز نفع کا جتنے فیصدحصہ شیئرہولڈر کے پاس آیا ہے اتنا نفع بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے۔
7۔شئیرز ہولڈر ا س بات کا بھی اہتمام کرے کہ جس کمپنی کے شئیرز خریدے ا س کے مجموعی سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی کے سود پرلیے گئے قرضوں کی مقدار بہت زیادہ ( مثلا تینتیس فیصد 33٪ سے زیادہ) نہ ہو۔
8۔ جو شئیرز خریدا جارہا ہو اس کے پیچھے موجود خالص نقد اثاثوں (Net liquid assets) کی مقدار اس شئیر کی بازاری قیمت (Market value )سے کم ہو۔
11۔ شئیرز کی خریدفروخت کرنے میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ شئیر خریدنے کے بعد شئیر ہولڈر ان شئیرز پرقبضہ کرے، اس کے بعد ان کو فروخت کرے ۔شئیرز پر قبضہ کئے بغیر انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں ڈے ٹریڈنگ (ایک دن شیئرز خرید کر اسی دن بیچنا) میں حاضر سودے کی جوصورت رائج ہے وہ یہ ہے کہ فوری یعنی نقد سودے(Spot Transections) میں سودا ہوتے ہی اس کا اندراج فوراً ہی کے اے ٹی (Karachi Automated Trading) میں ہوجاتا ہے، جو اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے سودوں کا کمپیوٹر ائزڈ ریکارڈ ہوتا ہے، لیکن آج کل ہرسودے کے دو کاروباری دنوں کے بعد خریدار کو طے شدہ قیمت ادا کرنا اور بیچنے والے کو بیچے ہوئے حصص کی ڈیلیوری دیناہوتی ہے ۔ (جبکہ پہلے اس میں تین دن لگتے تھے ) جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی کے ذریعے خریدے گئے شئیرز خریدار کے نام منتقل کیے جاتے ہیں،ا سٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں اس کو ڈیلیوری اورقبضہ کہاجاتاہے ۔
مذکورہ صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک خریدے گئے شئیرز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام منتقل نہیں ہوجاتے، انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً جائزنہیں، کیونکہ شرعاً کسی بھی چیز کو آگے بیچنے کے لیے اس پر قبضہ شرط ہے ۔
اسٹاک ایکسچینج کے مروجہ طریق کارکےمطابق اگرچہ شئیرز خریدتے وقت KAT میں ان کا اندراج ہوجاتاہے اور شئیرز کا نفع ونقصان بالآخر خریدار کو ہی پہنچتا ہے لیکن چونکہ شئیرز کی خریدوفروخت درحقیقت کمپنی کے حصہ مشاع کی خرید وفروخت ہے اور حصہ مشاع کی بیع میں محض نفع ونقصان کے خریدار کی طرف منتقل ہونے کو شرعی قبضہ قرار نہیں دیاجاسکتا اور مشاع حصہ پر حسی قبضہ بھی ممکن نہیں، لہذا اس صورت میں قبضہ کے تحقق کے لیے تخلیہ کا پایا جانا ضروری ہے اوراسٹاک ایکسچینج کے موجودہ قواعد وضوابط کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سی ڈی سی (Central Depository Company)کے ذریعے کمپنی کے ریکارڈ میں شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے تخلیہ نہیں پایا جاتا، لہذا مذکورہ صورت میں سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں بیچے گئے شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے انہیں آگے فروخت کرنا دراصل قبضہ سے پہلے بیچنا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ۔
خلاصہ یہ کہ نقد سودے کی صورت میں بھی خریدے گئے شئیر ز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ یعنی ڈیلیوری سے پہلے آگے بیچنا جائز نہیں، جس کو اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں ڈے ٹریڈنگ (Day Trading) کہا جاتا ہے۔
12۔ فارورڈ سیل(Forward Trading)یا فیوچر سیل (FutureTrading) کی جتنی صورتیں اسٹاک ایکسچینج میں رائج ہیں وہ اپنی موجودہ شکل میں شرعا ناجائز ہیں۔
13۔ اسٹاک ایکسچینج میں رائج بدلہ کے معاملات (جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بہت سے شیئرزخرید لیتا ہے، مگر اس کے پاس قیمت کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہوتی، اس لیے وہ شخص یہی شیئرز کسی دوسرے شخص کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ وہ ایک وقتِ مقرر پر زیادہ قیمت پر واپس خرید لے گا) بھی بیع قبل القبض اوردوسری شرط فاسد ( یعنی زیادہ قیمت پر واپس خریدنے کی شرط پر بیچنے ) کی بناء پر جائز نہیں۔
14۔ اسٹاک ایکسچینج میں رائج شئیرز کی بلینک سیل (Blank Sale) اور شارٹ سیل (Short Sale) بھی شرعا ممنوع اور ناجائز ہے، ان دونوں میں شیئرز بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتے، جبکہ شریعت نے غیر مملوک چیز کی خریدوفروخت کو ناجائز قرار دیا ہے۔( ماخذہ بتصرف:فتاوى دارالعلوم كراچی: 803/47)
15۔ شیئرز کی خریدوفروخت میں الاختیارات (Options) کے سودے کرنا بھی جائز نہیں، جن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعین قیمت پر ایک متعین وقت کے لیے شیئرز کی خریدوفروخت کا حق حاصل ہوتا ہے اور شیئرز بیچنے والے کے ہی ضمان میں ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ جس شخص کو اسٹاک ایکسچینج کے کاروبار اور اس سے متعلق شرعی احکام سے واقفیت حاصل ہو اسی کو اس کاروبار میں داخل ہونا چاہیے، اس کے علاوہ عام آدمی کے لیے یہ کاروبار شرعی مسائل پر عمل کرنے کے حوالے سے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے۔
فیوچر اور فارورڈ سیل میں سودا حتمی ہوجانےکے بعد مستقبل کی کسی متعین تاریخ میں قیمت اور مبیع پر قبضہ کرنا ہوتا ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ فارورڈ سیل میں فریقین مستقبل کی متعین تاریخ میں قیمت اور مبیع پر قبضہ کرلیتے ہیں، جبکہ فیوچر سیل میں عام طور پر متعین تاریخ کو نقد رقم یا کسی دوسرے معاملے کے ذریعہ تصفیہ کر لیا جاتا ہے، شیئرز اور قیمت پر قبضے کی نوبت بہت کم آتی ہے۔
حوالہ جات
ماخوذ از تبویب: 74626
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
06/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


