03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائنانس، ڈیریو، پیپر اسٹون جیسے پلیٹ فارمزکی ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کا حکم
87425جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

بائننس، ڈیریو، پیپر اسٹون جیسے بروکرز(پلیٹ فارم) کی(افیلی ایٹڈ ) منسلک مارکیٹنگ حلال ہے یا حرام؟

گاہک تو میرے لنک کے ذریعے آتا ہے ،لیکن حرام ٹریڈنگ کرتا ہے مثلاً بائنری یا فیوچر ٹریڈنگ ،تو اس سے  مجھے روزانہ کی بنیاد پر جوکمیشن ملے گا وہ حلال ہے یا حرام؟اوراگراس کمائی کو  حلال کاروبار میں لگایا جائے تو وہ کاروبار حلال ہوگا یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ(Affiliate Marketing)جائزہے۔ اور اس میں لنک تشکیل دینے والے کی حیثیت اجیر کی ہے یعنی اس کا کام ویب سائٹس پر بیچے جانے والی چیزوں کا لنک تشکیل دے کر ، لوگوں کو اس چیز کی خریداری کی طرف راغب کرنا اور مخصوص ویب سائٹس تک لے کر جانا ہے ، لہذا اس صورت میں لنک تشکیل دینے والے کو جو کمیشن ملے گا ،وہ اس کے لیے لینا جائز ہے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ جتنا کمیشن ملنا ہو، وہ پہلے سے طے ہو۔اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہو۔ صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطۂ نظر سے حلال ہو ں، جوچیزیں شرعاًحرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے۔

-2اگر آپ حلال اشیاء کے لنکس لگاتے ہیں اور گاہک آپ کے لنکس کے ذریعے آکر پھر اپنی مرضی سے حرام اشیاء کی یا حرام طریقے سے ٹریڈنگ کرتا ہے تو اگرآپ کواس بات کا علم ہو کہ گاہک حرام ٹریڈنگ ہی کرے گاتو گناہ کے کام میں تعاون ہونے کی وجہ سے یہ مکروہ ہے، ایسے کام سے بچنا لازم ہے۔ اگر علم نہ ہو تو یہ کمیشن لینا آپ کے لئے بلا کراہت جائز ہے۔ اور اگر آپ نے حرام چیز کا لنک لگایا ہو تو اس صورت میں آپ کے لئے کمیشن لینا حرام ہے۔

-3مال ِ حرام کا اصل حکم یہ ہے کہ اصل مالک تک پہنچایا جائے،یہ ممکن نہ ہوتو اس کوثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کیا جائے ، مال ِ حرام کو کاروبار میں انویسٹ کرنے سمیت کسی بھی طرح کا استعمال اور نفع لینا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 560):

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام: (1/ 231)

 إذا باع الدلال مالا بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقة وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه أو من المشتري أخذت منه أو من الاثنين أخذت منهما  أما إذ باع الدلال المال فضولا لا بأمر صاحبه فالبيع المذكور موقوف ويصبح نافذا إذ أجاز صاحب المال وليس للدلال أجرة في ذلك لأنه عمل من غير أمر فيكون متبرعا۔

احكام المال الحرام (ص: 49):

الغلّة والرّبح الّذى حصل للغاصب أو كاسب الحرام قبل أداء بدله إلى المالك، أو قبل التّصدّق لايطيب له الانتفاعُ به حتّى يؤدّى بدله..

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 6/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب