03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا عدت کی پابندی نہ کرنا
87448طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

ایک عورت جس کے خاوند نے اُسے ایک طلاق دی تھی اور رجوع نہیں کیا، عورت کو تین ماہواریاں گزر چکی ہیں، اُس عورت نے عدت کا لحاظ نہیں رکھا  یعنی باہر آنا جانا لگا رہا ،کیا اُس عورت کی عدت پوری ہو گئی ہے؟ اور کیا وہ عورت اب کسی اور مرد سے نکاح کر سکتی ہے ؟ مہربانی کرکے راہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں عورت کی عدت طلاق یاشوہر کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوجاتی ہے،اس دوران اگر عدت کے احکام کی پابندی نہ بھی کی جائے تو عدت گزر جاتی ہے۔البتہ لاپروائی کی وجہ سےعدت کی پابندی نہ کرنا گناہِ کبیرہ  ہے،  اس پر اللہ کے حضور توبہ و استغفار کیا جائے تواللہ کی رحمت سے امید ہے گناہ معاف ہوجائے گا،لہذا صورت مسئولہ میں عورت کی عدت گزر چکی ہے اوروہ اب دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے   ۔(ماخوذ ازتبویب: 71738)

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 531):

ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها كذا في الهداية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536):

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.

ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

  14 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب