| 87762 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
2014 میں یوسف بھائی کے گھر جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے مجھ سے کہا:آج سے تم مجھ سے فارغ ہو، آزاد ہو، نکل جاؤ میرے گھر سے۔2016میں ہم دونوں کا پھر جھگڑا ہوا۔ اس وقت بھی وہ شراب کے نشے میں اُس نے مجھ سے کہا: نکل جاؤ میرے گھر سے، تم بدکردار ہو۔ میں نے کہا: جب میں بدکردار ہوں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ جواب میں اُس نے بولا: جاؤ، چھوڑ دیا، دروازہ کھلا ہے، نکل جاؤ میرے گھر سے۔لیکن میں اپنے بچوں کی خاطر نہیں گئی۔
2023 میں تیسری بار جھگڑا ہوا۔ وہ مکمل طور پر نشے میں تھا۔ مجھے گندی گالی دی اور کہا: نکل جاؤ میرے گھر سے، آج سے تُو مجھ سے فارغ ہے، آزاد ہے۔ پھر میرے بیٹے موثّر سے کہا: اپنی ماں کو لے کر نکل، اور جاتے ہوئے پرچہ لے کر جانا۔پھر ہم ماں بیٹے نے گھر چھوڑ دیا۔میں اپنے جیٹھ کے گھر رہنے لگی۔ پھروہ مجھے زبردستی لینے آیا۔ میں جانا نہیں چاہتی تھی۔ اُس نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کیااور دھمکی بھی دی کہ: "اگر تم نہیں گئی تو میں تمہارا ایسا حشر کروں گا کہ دنیا دیکھے گی۔" اس دباؤ میں آکر میں اپنے بچوں کے ساتھ گھر آئی۔ گھر آ کر میں نے اس سے بات نہیں کی۔
پھر میرے بیٹے( جو سعودی عرب میں تھا) نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ وہاں آنے کے بعد میری طبیعت بھی سنبھل گئی۔ پھر اُن لوگوں نے میرے بیٹے مدثّر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اپنی ماں کو واپس بھیجو، مگر میری طبیعت دیکھ کر وہ مجھے واپس نہیں بھیج سکا۔میں درس میں جانے لگی تو پتا چلا کہ میرا اور اُس کا رشتہ ناجائز ہے۔ میں نے اُسے کہا: "میرا اور تمہارا رشتہ ناجائز ہے۔" وہ نہیں مانتا تھا۔ اس بات پر ہمارا جھگڑا ہوا۔ آخرکار 25-07-2024 کی شام اُس نے اپنے منہ سے مجھے تین بار طلاق دی، اور دوسرے دن صبح پیپر پر لکھ کر یا WhatsApp پر بھی بھیج دیا۔میں شک و شبہ میں مبتلا تھی، پھر 28-07-2024 کو میں عدّت میں بیٹھ گئی۔ 12-10-2024 کو میں پاکستان آ گئی اور اپنی ماموں زاد بہن، جو بیوہ ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں، ان کے گھر آ گئی۔ اب تک وہیں مقیم ہوں۔ سابق شوہر بچوں کے ذریعے مجھ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ رجوع کرنا چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیااب رجوع کرنا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں یہ کلام "آج سے تم مجھ سے فارغ ہو،آزاد ہو،نکل جاؤ " طلاق کی کنائی الفاظ ہیں ،جن میں سے فارغ اور آزاد کا تعلق کنایہ الفاظ کی اس قسم سےہے جس میں صرف طلاق بننے کی صلاحیت ہے اور قرینے کی موجودگی
کی صورت میں ایسے الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑتا ہے،تجدیدِ نکاح کے بغیر صرف زبانی یا عملی طور پر رجوع کافی نہیں ہوتا۔(احسن الفتاوی(188/5) اس لئے مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائن تو واقع ہوچکی تھی،اس واقعے کے بعد شوہر نے چونکہ تجدید نکاح نہیں کیا اور باقی جملے تقریبا ًدوسال یعنی بظاہر عدت گزرنے کے بعد کہے ہیں ،اس لئے اس سے کوئی مزید طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
لہذا مذکورہ صورت میں پہلی بار جب آپ کے شوہر نے جھگڑے کے دوران آپ سے یہ جملہ"تم میری طرف سے فارغ ہو" بولا تھا تواس کے ذریعے ایک بائن طلاق تو بہر حال واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا تھا جس کے بعد نکاح ضروری تھا، بغیر تجدید نکاح کے ساتھ رہنے کی وجہ سے میاں بیوی گناہ گار ہوئے ہیں،البتہ اس کے بعد عدت گزرجانے کی وجہ سے2024 میں تین بارصریح طلاق دینے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اس لئے اب حکم یہ ہے کہ رجوع تو نہیں ہوسکتا ،البتہ اگر آپ دونوں دوبارہ میاں بیوی بن کر اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نکاح ختم ہونے کے باوجود اتنا طویل عرصہ اکٹھا رہنے پر اور باربار ازدواجی تعلق قائم کرنے آپ دونوں کے ذمے سچے دل اور ندامت کے ساتھ کثرت سےتوبہ و استغفار لازم ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص215):
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح: ما لا يحتاج إلى نيةبائنا كان الواقع به أو رجعيا.فتح، فمنه الطلاق الثلاث فيلحقهما، وكذا الطلاق على مال فيلحق الرجعي ويجب المال والبائن ولا يلزم المال كما في الخلاصة، فالمعتبر فيه اللفظ لا المعنى على المشهور(لا) يلحق البائن (البائن)إذا أمكن جعله إخبارا عن الاول: كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لانه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى أو أنت طالق بائن.
البناية شرح الهداية (5/ 474):
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛
لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 374):
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/ذی الحجہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


