| 87508 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
پچھلے دو ہفتے سے میرے اور میرے شوہر کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا،اب میں اپنی ماں کے گھر تھی۔بروز اتوار دوپہر کو میری ساس سے کال پر بات ہوئی ، انہوں نے مجھے برا بھلا کہا، اس دوران میرے شوہر نے موبائل لے لیا اور مجھے غصے میں آکر تین مرتبہ طلاق دی کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ میں نے مکمل طور پر ہوش وحواس میں واضح الفاظ سنے۔ اب میری ساس اور میرا شوہر انکار کررہے ہیں کہ طلاق نہیں دی، وہ کہتا ہے میں نے کہا تھا کہ میں تمہیں مستقبل میں طلاق دوں گا، لیکن حقیقت میں اس نے تین مرتبہ طلاق دی ہے۔ اس حوالے سے راہنمائی فرمادیجیے کہ طلاق ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ اور کتنی ہوئی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں بتائی گئی صورت کے مطابق تین طلاقیں ہوگئی ہیں اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، بیوی شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے اور رجوع کا حق بھی ختم ہو گیا ہے۔ تین طلاقیں دینے کی صورت میں عدت کے دوران رجوع کا حق باقی نہیں رہتا اور عدت گزرنے کے بعد بھی اس شوہر سے موجودہ حالت میں نکاح نہیں ہو سکتا ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم: (البقرة، الآیة: 230):
"فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ، فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ، وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ"
الفتاوى الهندية (10/ 196):
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية"
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
16/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


