03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع لینا
87476طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

شوہر کے نفقہ بند کردینے کی بناپر کیا میں شرعا عدالت کے ذریعے خلع لے سکتی ہوں؟

تنقیح  : سائلہ سے فون پر رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے نفقہ ادا نہیں کر رہے۔ حالانکہ وہ مالی طور  پر مستطیع ہیں اور ان کے پاس وسائل بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سائلہ کو نان و نفقہ فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے نفقہ ادا نہ کرنے کی بنا پر، عورت کے لیے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس سے کسی طرح طلاق یا خلع لیا جائے (یعنی  خلع میں اس کی تحریری یا زبانی رضامندی ہو) اور  اگر  وہ طلاق یا خلع دینے پر راضی نہ ہو ، تو عورت  عدالت میں مقدمہ دائر کرے اور شرعی گواہوں یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے ذریعہ  اپنا دعوی ثابت کر دے۔  عدالت معاملہ کی تحقیق کے بعد شوہرکونوٹس بھیجےگی کہ بیوی بچوں کےنان   و نفقہ کاانتظام کرویابیوی کوطلاق دو۔اگرشوہران میں سے کسی بات پربھی تیارنہ ہوتوعدالت تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کردے گی،جس کی بنیادپرمیاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا،اس کےبعدعدالت کےفیصلہ کرنےکی تاریخ سےخاتون کی عدت شروع ہوجائےگی اور وہ اپنی عدت پوری کرکےدوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

(الفتاوى الهندية :1 / 524)

إن اختارت الفرقة أمر القاضي أن يطلقها طلقة بائنة فإن أبى فرق بينهما هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل، كذا في التبيين. و الفرقة تطليقة بائنة، كذا في الكافي.

(الحیلۃ الناجزۃ:ص 132،دارالإشاعة كراتشي)

وأماالجواب عن امرأۃ المعسرالذی لایجدماینفق علیھاففی المدونۃقال لنامالک:وکل من لم یقو علی نفقۃامرأتہ فرق بینھما،ولم یقل لنامالک حرۃولاأمۃ.وقال:لأن الرجل إذاکان معسرالایقدرعلی نفقۃ المرأۃفلیس لھاعلیہ النفقۃ، إنمالھاأن تقیم معہ أویطلقھا....ابن وھب عن مالک وغیرہ عن سعیدبن المسیب أنہ کان یقول:إذالم ینفق الرجل علی امرأتہ یفرق بینہما.قال:وسمعت مالکایقول:کان من أدرکت یقولون:أذالم ینفق الرجل علی امرأتہ فرق بینہما.

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

13 ٖذی القعدہ  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب