03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حاملہ خاتون کی طلاق کی عدت
87509طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرے شوہر نے غصے میں آکر تین مرتبہ طلاق دی کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔میری عدت کتنے دن ہوگی ؟جبکہ میں حاملہ ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں طلاق کی عدت وضع  حمل ہے یعنی جس دن  بچے کی ولادت ہوگی اسی دن عدت پوری ہوجائے گی،اور عدت کی پابندی ختم ہوجائے گی ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 511)

(و) في حق (الحامل) مطلقا  الی قولہ  ۰۰(وضع) جميع (حملها)

قوله: مطلقا) أي سواء كان عن طلاق، أو وفاة، أو متاركة، أو وطء بشبهة نهر(قوله: وضع حملها) أي بلا تقدير بمدة سواء ولدت بعد الطلاق، أو الموت بيوم، أو أقل جوهرة،

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب