| 87489 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص ایسے ہوٹل پر کا م کر تا ہے ، جہاں حلال و حرام تمام طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ،لیکن وہ صرف حلال چیزوں کا آرڈر ہی ڈیلیور کرتا ہے، البتہ اگر کبھی غلطی سے ایسی چیز کا آرڈر ڈیلیور کر دے ، جس میں کچھ حرام عناصر بھی شامل ہوں،مثلا غلطی سے ایسے پیزے کا آرڈر اٹھالیا، جس میں خنزیر کا بھی کچھ گوشت شامل تھا ،ایسی ڈیلیوری سے جو آمدنی حاصل ہو گی، اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی مسلمان کے لئے غیر مسلموں کے لیے حرام کھانا بنانا یا پیش کرنا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ شریعت میں جس طرح خنزیر کا گوشت، غیر مذبوح جانور اور شراب حرام ہے، بالکل اسی طرح ان چیزوں کا تیار کرنا یا پیش کرنا یا ان کی تیاری میں کسی بھی قسم کا تعاون کرناناجائز اور حرام ہے،اور ایسے حرام کام کی تنخواہ و اجرت بھی ناجائز ہے ۔
البتہ کوئی مسلمان اگر ایسے ہوٹل پر کام کرتا ہے جہاں حلال وحرام ہر طرح کی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں ،لیکن یہ مسلمان صرف جائز کام کرتا ہے،تو اس کی اجرت حلال ہے،اس دوران اگر غلطی سے کوئی حرام کام ہوجاتاہے ،تو تنخواہ سے اس کام کے تناسب سے رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر دے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم :
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
صحيح البخاري»(2/ 779):
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة: (إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير، والأصنام). فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: (لا، هو حرام). ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: (قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه).
فقہ البیوع (1057/2)
أما الفنادق والمطاعم والخطوط الجوية التي تباع فيها الخمور والأشياء المحرمة فالأحسن المسلم متدين أن يجتنب عن التعامل معها مهما وجد لذلك سبيلا، وذلك لئلا يكون منه تشجيع لمن يتعاطون المحرمات، وليظهر نفرته من ذلك۔۔۔
أما قبول الوظائف في مثل هذه الفنادق والمطاعم، فإن كانت الوظيفة متمخضة الخدمة مباحة، فهى جائزة، وتجرى على راتبها حكم المال الحلال، وإن كانت متمحضة للحرام، مثل بيع الخمر، فهي حرام، وراتبها۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص340):
العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى، فإن سقي الخمر أو تقديمها إلى من يشربها حرام بنص صريح، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


