| 87553 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مغرب کے وقت کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ جب سورج غروب ہوتا ہے، تو کیا مغرب کی نماز کا وقت فوراً شروع ہو جاتا ہے، یا اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج مکمل طور پر غروب کے بعدافق پر اس کی سرخی بھی باقی نہ رہے؟
ہمیں جوابات احادیثِ نبویہ کی روشنی اور فلکیاتی (Astronomical) حسابات کے مطابق تحریری صورت میں درکار ہیں، تاکہ ہمارے پاس ایک تحریری ثبوت موجود ہو کہ ہماری ایپلیکیشن کے اوقاتِ نماز شریعت اور سائنسی حسابات کے عین مطابق ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مغرب کا وقت جب سورج کی ٹکیہ کا اوپری کنارہ مغربی افق سے نیچے چلاجائےتوشروع ہو جاتا ہے۔ اس کا افق کی سرخی کے باقی رہنے یا نہ رہنے سے کوئی تعلق نہیں۔ غروبِ شمس کے بعد سرخی یا سفیدی کا تعلق مغرب کے آخری وقت اور عشاء کے آغاز سے ہے، نہ کہ مغرب کے وقت کی ابتداء سے۔
حوالہ جات
الهدایة مع فتح القدیر ص۱۹۵ جلد۱ باب المواقیت):
"(و أول وقت المغرب إذا غربت الشمس وآخر وقتها مالم یغیب الشفق) وقال ابن الهمام رحمه الله: ولذا قلنا: إن تاخیر المغرب مطلقاً مکروه."(
مسند أحمد مخرجا (19/ 322):
عن أبي صدقة، مولى أنس قال: سألت أنسا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «كان يصلي الظهر إذا زالت الشمس، والعصر بين صلاتيكم هاتين، والمغرب إذا غربت الشمس، والعشاء إذا غاب الشفق، والصبح إذا طلع الفجر إلى أن ينفسح البصر».
صحيح مسلم (1/ 427):
عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن وقت الصلوات، فقال
«وقت صلاة الفجر ما لم يطلع قرن الشمس الأول، ووقت صلاة الظهر إذا زالت الشمس عن بطن السماء، ما لم يحضر العصر، ووقت صلاة العصر ما لم تصفر الشمس، ويسقط قرنها الأول، ووقت صلاة المغرب إذا غابت الشمس، ما لم يسقط الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل»
صحيح البخاري (1/ 117):
حدثنا المكي بن إبراهيم، قال: حدثنا يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة، قال: «كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم المغرب إذا توارت بالحجاب».
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


