03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاپیوں او رکتابوں پر یکساں رنگ کے کور چڑھانے کے حوالے سے اسکول کے قوانین کا حکم
87578جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میری بیٹی کے اسکول میں کچھ قواعد و ضوابط مقرر کیے گئے ہیں جو بظاہر ترتیب اور خوبصورتی کے لیے ہیں، جیسے: اگر کاپی پر اسکول کا مونوگرام ہو تو صرف پلاسٹک شیٹ چڑھانی ہے۔

اگر مونوگرام نہ ہو تو پلاسٹک شیٹ کے ساتھ ساتھ ہر کلاس کے حساب سے مخصوص رنگ کی "پرپل شیٹ" بھی چڑھانی ہے،ہر کلاس کے لیے مختلف رنگ کی شیٹس مقرر کی گئی ہیں۔

یہ تمام چیزیں صرف ترتیب اور ظاہری یکسانیت کے لیے کہی جاتی ہیں، جبکہ ان کا کوئی تعلیمی یا اخلاقی فائدہ واضح نہیں ہوتا۔میں اپنی بچی کی کاپیوں پر صفائی اور ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے پوسٹر یا کیلنڈر کی سفید شیٹ کے ساتھ پلاسٹک شیٹ چڑھاتی ہوں ،تاکہ اخراجات بھی قابو میں رہیں اور کاپی کی ظاہری حالت بھی بہتر رہے۔

موجودہ مہنگائی کے دور میں اکثر والدین کے لیے بچوں کی تعلیمی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، تو ہر سال صرف ظاہری خوبصورتی کے لیے ان اضافی چیزوں پر خرچ کرنا سب کے لیے ممکن نہیں،لیکن جب ہم نرمی کی درخواست کرتے ہیں تو اسکول کی طرف سے کہا جاتا ہے:

"اگر اپنے بچے کو یہاں پڑھانا ہے تو اسکول کے تمام قواعد ماننے ہوں گے۔"براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:

1. کیا اسکول انتظامیہ والدین کو ایسے قواعد پر عمل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جو صرف ظاہری خوبصورتی یا یکسانیت کے لیے ہوں، جبکہ ان میں مال کا غیر ضروری ضیاع ہو؟

2. کیا شریعت کی رو سے یہ اسراف یا فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہے؟

3. اگر کوئی ادارہ والدین کو ایسی چیزوں کے لیے مجبور کرے تو کیا یہ شرعی طور پر درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کوئی ایسا کام جس سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ مقصود ہواسراف کے تحت داخل نہیں ہوتا،سوال میں ذکر کئے گئے امور کتابوں کی حفاظت ،حسن ترتیب اور خوبصورتی کے لئے اسکول انتظامیہ کی طرف سے لازم کئے جاتے ہیں اور چونکہ یہ اقدامات شریعت کے مخالف نہیں،بلکہ مباح ہیں،اس لئے اسکول انتظامیہ کا ایسے قوانین ترتیب دینے اور اپنے ہاں پڑھنے والوں بچوں سے ان کی پابندی کروانے میں کوئی حرج نہیں۔

تاہم اسکول انتظامیہ پر بھی لازم ہے کہ اپنی من مانی نہ کرے،بلکہ والدین کے ساتھ تعاون کرے اور محض ذاتی خواہشات اور مفادات کو مدنظر رکھ کر من مانے اصول وضوابط بنانےسے گریز کرے،امانت و دیانت کے ساتھ تعلیمی معیار کی بہتری کے جو قوانین ناگزیر ہوں،صرف ان پر اکتفاء کرے۔

حوالہ جات

"معجم الفروق اللغوية " (ص: 114):

"الفرق بين التبذير والاسراف: قيل: التبذير: إنفاق المال فيمالا ينبغي. والاسراف: صرفه زيادة على ما ينبغي.

وبعبارة اخرى: الاسراف: تجاوز الحد في صرف المال، والتبذير: اتلافه في غير موضعه، هوأعظم من الاسراف، ولذا قال تعالى: " إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين "  .....

أقول: ويستفاد من بعض الاخبار أن الاسراف على ضربين: حرام، ومكروه. فالاول: مثل إتلاف مال ونحوه فيما فوق المتعارف. والثاني: إتلاف شئ ذي نفع بلا غرض".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

17/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب