03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے وسوسے آنے سے طلاق کا حکم
87549طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

۱۔علی نے کہا ساری دنیا چھوڑ دو اللہ کے دین سے جڑ جاو ،عباس نے کہا ٹھیک ہے۔ کیا عباس کی بیوی مطلقہ بن گئی، جبکہ عباس کی طلاق کی نیت نہ تھی ؟

۲۔علی نے کہا لڑکیاں بڑی پیاری ہیں، امجد بولا ساری لڑکیوں کو چھوڑو دفتر کا کام کرو، علی نے کہا ٹھیک ہے۔ علی کی بیوی بھی   ایک لڑکی ہے ،تو کیا علی کی بیوی راشدہ کو طلاق ہوجائے گی جبکہ علی کی نیت نہیں تھی ؟

۳۔علی کے دل میں تعلیق طلاق کا وہم آیا کہ " اگر علی نے طلاق کے موضوع پر سوال پوچھا تو رخشندہ کو طلاق "،پھرعلی نے تعلیق طلاق کے وہم کی وجہ سے وہم دور کرنے کے لیے کسی سے سوال پوچھا تو کیا اس سے وہ حانث ہو جائے گا؟

۴۔علی سے شاہد نے پوچھا پہلی دو بیویوں کو طلاق کیوں دی ؟علی نے کہا: پہلی دو پسند نہیں تھیں، اب جو تیسری بیوی ہے وہ پسند ہے ۔کیا علی کی تیسری بیوی شائستہ بھی مطلقہ بن جائے گی، جبکہ علی کی نیت شائستہ کو طلاق دینے کی نہ تھی ؟

۵۔علی  کی ماں نے کہا :"عائشہ کو سسرال چھوڑ آؤ "علی نے بولا عائشہ میری بیوی ہے۔ علی کی ماں جب لفظ "چھوڑ آؤ" بول رہی تھی تو علی نے کہا "عائشہ میری بیوی ہے"۔ تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟

۶۔ علی نے کہا میں اللہ کو طلاق کا اختیار دیتا ہوں .کیا علی کا  اللہ کو اختیار دینے سے علی کی بیوی مطلقہ بن جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱تا ۵۔مذکورہ  تمام سوالات میں درج باتیں صرف طلاق کے وسوسے ہیں،بیوی کی طرف طلاق کی نسبت حقیقت میں نہیں کی گئی، جس  سے طلاق واقع ہوجائے۔ لہذا  ایسے خیالات اور ایسی باتیں کرنے    سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

۶۔ اللہ کو طلاق سپرد کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 

 

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(٤/٢٢٤):

وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس.

بداية المبتدي (ص76):

وإذا قال الرجل لامرأته ‌أنت ‌طالق ‌إن ‌شاء ‌الله تعالى متصلا لم يقع الطلاق.

الاختيار لتعليل المختار (3/ 142):

ولو قال لها: ‌أنت ‌طالق ‌إن ‌شاء ‌الله، أو ما شاء الله، أو ما لم يشأ الله، أو إلا أن يشاء الله لا يقع شيء إن وصل. 

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

17/ذی القعده/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب