03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلام 360 ایپ کے استعمال اور اس پر تلاؤت قرآن کے بدلے عمرہ کرنے کا حکم
87518اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

اسلام 360نامی ایپ  جو کہ کراچی کے ایک شہری محترم زاہد حسین چھیپا صاحب نے بنائی ہے۔ اس ایپلیکیشن کے ذریعے قرآن پڑھنے پر نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جاتاہے اور نام نکلنے پر لوگوں کومفت عمرہ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ اس ایپ کا استعمال اور اس کے ذریعے مفت  میں عمرہ پرجانا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کے لیے اس ایپ کو استعمال کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فقہی مسائل اور احادیث کی تحقیق کے بارے میں اس پر مکمل اعتماد نہیں کیاجاسکتا۔لہٰذا اس ایپ میں موجود فقہی مسائل ، احادیث یا کسی حوالے سے استفادہ کرنےسے پہلے کسی قریبی مستند عالم دین یا مفتی کو دکھا کر ان سے راہ نمائی لے لیا کریں۔

اسلام 360کا عمرہ کے حوالے سے طریقہ کار یہ ہے کہ صرف قرآن کی تلاوت ایک منٹ تک کرنے  پر ایک کوائن ،ترجمہ سمیت  دو کوائن اور تفسیر سمیت تین کوائن ملتے ہیں ،اسی طرح اگر کوئی اس ایپ کا لنک سوشل میڈیا پر شیئر کرے گا اور کوئی اس لنک کے ذریعےایپ کو ڈاؤن لوڈ کرے گا تواس شیئر  کرنے والے کو 25کوائن  ملے گے، پھر جس کے کوائن سب سے زیادہ ہوں، اس کو عمرہ پر بھیجا جاتا ہے اور اگر زیادہ کوائن حاصل کرنے  والے افراد ایک سے زائد ہوں  تو قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔

 اگر کوئی شخص کسی کو  اعمالِ صالحہ پر ابھارنے  اور رغبت دلانے  کے لیے  انعام مقرر کردے،اور مطلوبہ کام  کے کرنےپروہ اسے انعام سے نوازدے، تو شرعاًاس  انعام کے لینے دینے میں کوئی قباحت نہیں۔لہٰذا تلاوت قرآن پر بطور انعام ایپ والوں کا عمرہ کرانا درست اور جائز ہے۔

حوالہ جات

مسند أحمد (21/ 396 ط الرسالة):

وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ: " ‌من ‌قتل ‌كافرا ‌فله ‌سلبه " قال: فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلا، وأخذ أسلابهم.

الموسوعة الفقهية الكويتية (15/ 77):

الجعل: لغة ما يجعل للعامل على عمله، وهو أعم من الأجر والثواب ،واصطلاحا: المال المعلوم سمي في الجعالة     لمن يعمل عملا مباحا ولو كان مجهولا    في القدر أو المدة        أو بهما ،فالفرق بينه وبين الجائزة

أن الجائزة عطية بلا مقابل.

‌‌الحكم التكليفي:

6 - ‌الأصل ‌إباحة ‌الجائزة ‌على ‌عمل ‌مشروع سواء أكان دينيا أو دنيويا لأنه من باب الحث على فعل الخير والإعانة عليه بالمال وهو من قبيل الهبة.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 15/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب