03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف چھوٹی آبادیوں میں بڑے نام میں اشتراک کی بنیاد پر جمعہ قائم کرنے کا حکم
87505نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے علاقہ "چوگا دونکاچہ" کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک مسجد تعمیر کرائی ہے۔ اب تک اہلیانِ علاقہ نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین کی ادائیگی کے لیے دور دراز علاقوں میں جاتے ہیں۔ اب چونکہ علاقے"چوگا دونکاچہ" میں مسجد مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے، جس میں نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے آپ صاحبان کی اجازت درکار ہے۔

ہمارا علاقہ "چوگا دونکاچہ" 343 گھرانوں اور 3166 افراد (نفوس) پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں پرائیویٹ اسکول، سرکاری اسکول، اور تین مارکیٹیں موجود ہیں۔ نیز، مارکیٹوں کے علاوہ چھ (6) ڈاکٹروں کے کلینک بھی قائم ہیں۔ علاقے میں روزمرہ زندگی کی تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ اکثریتی گھرانے ایک دوسرے سے متصل ہیں۔

ہمارے علاقے میں پندرہ (15) محلے ہیں، اور ہر محلے میں ایک مسجد موجود ہے۔ ان محلوں کا درمیانی فاصلہ تقریباً 150 میٹر سے 400 میٹر تک ہے (مثلاً 150، 250، 300 اور 400 میٹر)۔ ہر محلے میں دکانیں اور ڈاکٹرز کلینک موجود ہیں۔ دکانیں کسی ایک جگہ پر مجتمع نہیں بلکہ مختلف آبادیوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ صرف ایک مقام پر 8 دکانیں سڑک کے ایک جانب واقع ہیں، باقی دکانیں مختلف محلوں میں منتشر ہیں۔ بعض کے مطابق ان دکانوں کی تعداد 28 تک ہے، جبکہ بعض کے نزدیک یہ 18 تک ہے۔

لہٰذا استدعا ہے کہ مذکورہ بالا مسجد میں نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین قائم کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گوگل ارتھ کے ذریعے متعلقہ پہاڑی علاقے کا بغور جائزہ لیا گیا، اور پھر مشاہدہ کرنے والی علما و مفتیانِ کرام پر مشتمل مقامی ٹیم سے بھی رابطہ کیا گیا۔ تمام تر تحقیق کے نتیجے میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سوال میں مذکور مقام، جسے سائل نے "چوگا دونکاچہ" کے نام سے ایک علاقہ قرار دیا ہے، درحقیقت کوئی ایک مربوط جگہ نہیں ہے، بلکہ پہاڑ پر واقع مختلف الگ الگ مقامات ہیں۔ ان مقامات کے درمیان باہم معتدبہ فاصلہ بھی موجود ہے، اور عرف عام میں ان کے الگ الگ نام بھی رائج ہیں۔لہٰذا صرف ایک بڑے نام میں اشتراک کی بنیاد پر انہیں ایک علاقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر صرف نام کا اشتراک کافی سمجھا جائے، تو پھر تو پورے ضلع، ڈویژن یا صوبے کا نام بھی ایک ہو سکتا ہے — لیکن اس سے وہ سب ایک جگہ شمار نہیں ہو سکتے۔یہ الگ الگ مقامات ہیں، اور ان میں سے کسی ایک مقام میں نہ تو آبادی اس قدر ہے اور نہ ہی وہاں وہ تمام ضروری اسباب و سہولیات موجود ہیں جو جمعہ کے قیام کے لیے شرعاً درکار ہوتے ہیں۔لہٰذا چونکہ مذکورہ مقام "چوگا دونکاچہ" نہ شہر ہے، نہ فناءِ شہر میں داخل ہے، اور نہ ہی اس پر "قریۂ کبیرۃ" (بڑا گاؤں) کی تعریف صادق آتی ہے، اس لیے جوازِ جمعہ کی شرعی شرائط یہاں پوری نہیں ہوتیں۔ چنانچہ اس مقام پر جمعہ اور عیدین کا قیام شرعاً جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر اس علاقے کا مجازحاکم مثلاً کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ وہاں جمعہ قائم کرنے کاحکم کرےتوچونکہ حکمِ حاکم رافع للخلاف ہوتاہے اس بنیاد پر وہاں جمعہ کا قیام جائز ہوجائےگا۔ 

حوالہ جات

وفی مصنف ابن أبي شيبة - ترقيم عوامة - (2 / 101)

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : لاَ جُمُعَةَ ، وَلاَ تَشْرِيقَ إِلاَّ فِي مِصْرٍ جَامِعٍ.

وفہ الدر المختار للحصفكي - (ج 2 / ص 148)

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الاول: (المصر وهو . ......وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض

يقدرعلى إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.....(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لاجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل، والمختار للفتوى تقديره بفرسخ، ذكره الولوالجي.)

وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.

رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة ؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر

وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

قال أبو القاسم : هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه .

رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي ا هـ فافهم  ،والرستاق القرى كما في القاموس

فى اعلاء السنن (8\16)

أن أمرالامام واذنه قاطع للنزاع فى المسائل المجثهد فيها واشتراط المصز مجتهد فيه الصحابة رضوان الله عليهم والائمة فاذا أمر الامام على القرية واذن له باقامة الجمعة بها صحت الجمعة بها عندنا لأجل هذا الاصل .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

19/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب