| 87496 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
فی زمانہ روزمرہ کے استعمال میں آنے والی بہت سی مصنوعات/اشیاءجاندار کی تصاویر پر مشتمل ہوتی ہیں، ان کی مختلف صورتیں ہیں:
بعض اوقات تصاویرجزوِمبیع ہوتی ہیں،یعنی وہ اشیاء کسی جاندار کے مجسمہ پر مبنی ہوتی ہیں، مثلاً؛ Teddy bear cakeیا ایموجیزکی ساخت پر بنے ہوئےکیک،بسکٹ وغیرہ ۔(نمونہ لف کیا گیا ہے)
اس صورت کے مطابق تصویرجزوِمبیع ہوتی ہے ،بلکہ بسا اوقات مجسمہ کی صورت میں ہوتی ہےتو ایسے مبیع کوبنانےکا کیا حکم ہےاورایسی اشیاء کی خرید و فروخت کا شرعی حکم کیاہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جاندار(ذی روح) کے ڈیزائن بنانا در اصل مجسمہ سازی ہی کی ایک صورت ہے اور مجسمہ سازی شرعاناجائز اور سخت گناہ ہے۔ چنانچہ اگر مجسمہ سے جاندار کی مکمل صورت اور ہئیت معلوم ہوتی ہو تواس کا بنانا اور فروخت کرنا اور اس کی آمدنی سب نا جائز ہوں گے ۔ یعنی اگر جاندار کے مجسمہ میں ایسے اعضاء بنائے گئے ہوں جن کے بغیر زندگی و حیات باقی نہیں رہتی جیسےسر، تومحض آنکھیں یا ناک نہ بنانے سے وہ مجسمہ کے حکم سےخارج نہیں ہو گا، اس لئے کہ آنکھیں اور ناک وغیرہ ایسے اعضاء ہیں جن کے بغیر بھی زندگی باقی رہتی ہے ۔البتہ اگر اس کاچہرہ اور سر کاٹ دیا جائے یا اس کو اس قدر مسخ کر دیا جائے کہ چہرے کےنقوش بالکل باقی نہ رہیں (یعنی صرف صاف سیدھی سطح باقی ہو) تو اس صورت میں یہ ایک مکمل جاندار کا مجسمہ شمار نہ ہو گا، بلکہ اس کا حکم عام چیز کا ہو گا اور پھر اس کا بنانا اور فروخت کرنا دونوں کی گنجائش ہو گی ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري(2/ 775 ت البغا):
عن سعيد بن أبي الحسن قال:كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا ابن عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: (من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا). فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 116):
فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلا يوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لا يعبدون تمثال
ما ليس بذي روح، فلا يحصل التشبه بهم، وكذا النهي إنما جاء عن تصوير ذي الروح لما روي عن علي رضي الله عنه أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح،
السنن الكبرى - البيهقي(7/ 441 ط العلمية):
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: " الصورة الرأس فإذا قطع الرأس فليس بصورة ".
حاشية ابن عابدين ، رد المحتار ط الحلبي:(1/ 648)
(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين بحر۔
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


