| 87497 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بعض اوقات تصویر جزوِمبیع نہیں ہوتی ،بلکہ اشیاء کے پیکٹ، تھیلے وغیرہ پر پرنٹ ہوتی ہے،جیسا کہ دودھ کے ڈبے پر بچے کی تصویر،شیمپو پر خاتون کی تصویر ،زیر جامہ پہنے جانے والے کپڑوں کے تھیلوں پرپر نٹ کی گئی تصاویر ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تصویر میں بے پردہ خاتون ہوتی ہے یا مرد و خواتین کے ستر والے حصے ظاہر ہوتے ہیں کہ جنہیں دکان پر رکھنے اور فروخت کرنے میں نہ صرف تصویرکاعنصرمحسوس ہوتاہے بلکہ بسااوقات ’’ان تشیع الفاحشۃالخ‘‘ کاعنصربھی محسوس ہوتاہے،البتہ ایسی اشیاءصارفین کی ضرورت بھی ہوتی ہیں، لہذا دکاندار کیلئے رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ (نمونہ لف کیا گیا ہے)
اس صورت کے مطابق جب تصویرمقصوداورجزوِمبیع نہ ہوتوایسی مصنوعات کوبیچنےکاکیاحکم ہے؟نیز ایسی اشیاء کے ڈسپلے (شوکیس)میں رکھنےاور دکان کے شیلف پر رکھنے کا کیا حکم ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی چیزیں جن کا مقصد کوئی جائز امر ہو، لیکن ان میں ضمنًا اور تبعًا تصاویر بھی شامل ہوں، جیسے اخبارات اور ایسی کتابیں جن میں جاندار کی تصویریں چھپی ہوتی ہیں، اسی طرح مختلف اشیاء کے ڈبے اور کاٹن وغیرہ جن پر جاندار کی تصاویر چھپی ہوتی ہیں۔ اس طرح تصاویر چھاپنا اگرچہ جائز نہیں، گناہ کا کام ہے، لیکن چونکہ ان اشیاء کی خرید وفروخت میں تصاویر مقصود نہیں ہوتیں؛ بلکہ مقصود وہ چیز ہوتی ہے؛ اس لیے اس طرح کی اشیاء کی خرید وفروخت جائز ہے،لہذا ان کے ڈبوں پر پائی جانے والی تصاویر کی وجہ سے ان کی خریدوفروخت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔البتہ خواتین کی تصاویر والی اشیاء جن سےبے حیائی پھیلتی ہو ،ان کو سامنے والی شیلفوں پر رکھنے کی بجائے پیچھے رکھنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
شرح السير الكبير (ص1051):
ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك.لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 361):
فإنه قد يثبت من الحكم تبعا ما لا يثبت مقصودا كالشرب في البيع والبناء في الوقف،
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


