| 87588 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے ہمارا ادارہ گزشتہ تقریباً بیس سال سے خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت اپنی کمیونٹی اور دیگر مستحقین کی تعلیمی، طبی، معاشی، شادی بیاہ، ماہانہ راشن اور دیگر فلاحی ضروریات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں پورا کر رہا ہے، والحمد للہ ۔
ادارے کو ہر سال زکوٰۃ کی رقم موصول ہوتی ہے، جو مستحقین پر خرچ کی جاتی ہے۔ بعض اوقات سالانہ زکوٰۃ خرچ کرنے کے بعد بھی کچھ رقم بچ جاتی ہے۔ ادارہ اس سلسلے میں ایک اہم منصوبے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کو مستقل چھت فراہم کرنا ہے جو کرایہ کے مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں، اور ہماری برادری کے وہ لوگ جن کے مکانات گجر نالے کی کٹنگ میں منہدم ہو گئے تھے، اب بے سروسامانی کے عالم میں زندگی بسر کر رہے ہیں، خصوصاً وہ بیوہ خواتین جن کے چھوٹے بچے ہیں اور جو روز مرہ کے اخراجات کے باعث انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے انتہائی سفید پوش مستحق خاندان ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
ادارہ یہ چاہتا ہے کہ بچی ہوئی زکوٰۃ کی رقم سے تقریباً 80 گز زمین خرید کر اس پر دو یا تین منزلہ مکان تعمیر کیا جائے، اور مکمل شرعی و فلاحی جانچ پڑتال کے بعد ان میں دو یا تین مستحق خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ مستقل بنیادوں پر رہائش فراہم کی جائے۔
اس سلسلے میں ہم آپ سے درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی کے طالب ہیں:
(١)کیا زکوٰۃ کی بچی ہوئی رقم سے زمین خرید کر اس پر مکان تعمیر کرنا اور پھر مستحقین کو مستقل رہائش کے طور پر دینا جائز ہے؟
(۲)کیا یہ اقدام زکوٰۃ کی اصل روح اور مصرف کے مطابق شمار ہوگا؟
(۳)جو احباب ادارے کو زکوٰۃ کی نیت سے رقم دیتے ہیں، کیا ان کی طرف سے بھی یہ عمل درست قرار پائے گا یا اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟
(۴)کیا اس منصوبے کے تحت پلاٹ کی خریداری کے دوران دی جانے والی بروکری، بجلی اور گیس کے میٹر لگوانے کے اخراجات، تعمیرات کے دوران پولیس یا دیگر ادارہ جاتی فیسیں بھی زکوٰۃ کی رقم سے ادا کی جا سکتی ہیں؟
(۵)کیا اس منصوبے کی مکمل بنیاد، تعمیر، اور دیگر ضروری اخراجات زکوٰۃ کے مصرف میں شامل کیے جا سکتے ہیں؟
براہِ کرم مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم یہ قدم اٹھانے سے قبل مکمل اطمینان حاصل کر سکیں اور زکوٰۃ کے احکام کی مکمل پاسداری بھی ہو سکے۔ نیز آپ سے التماس ہے کہ مذکورہ فتاویٰ تحریری طور پر عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک، یعنی کسی مستحق فقیر کو مالک بنا کر دینا، ضروری شرط ہے، اور سوال میں مذکور طریقے پر مکان بنا کر دینے میں جو اخراجات ہوتے ہیں، ان میں سے بعض—جیسے بروکری، بجلی اور گیس کے میٹر لگوانے کے اخراجات، تعمیرات کے دوران پولیس یا دیگر ادارہ جاتی فیسیں وغیرہ—میں تملیک نہیں ہوتی، لہٰذا سوال میں مذکور طریقہ شرعاً درست نہیں ہے۔
البتہ درج ذیل متبادل شرعی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، جن سے زکوٰۃ کی شرائط بھی پوری ہوں گی اور مستحقین کو فائدہ بھی پہنچے گا:
مستحقین کو زکوٰۃ کی رقم دے کر مالک بنایا جائے:
ادارہ جن مستحقین کو مکان دینا چاہتا ہے، ان کو شرعی تحقیق کے بعد زکوٰۃ کی مکمل رقم مالک بنا کر دے دے۔ پھر اگر وہ چاہیں تو خود مکان تعمیر کریں، اور اگر چاہیں تو ادارے کو وہی پیسے دے کر وکیل بنا دیں کہ ان کی طرف سے زمین خریدے اور مکان بنائے۔ اس طریقے سے تملیک کی شرط بھی پوری ہو جائے گی اور مکان بھی مستحق کے لیے بن جائے گا۔
تیار شدہ مکان خرید کر تملیک کی جائے:
ادارہ کسی تیسرے فریق سے تیار مکان خرید کر براہِ راست کسی مستحق کو مالک بنا کر دے۔ یہ طریقہ بھی جائز ہے، بشرطیکہ مکان فقیر کو تملیکاً دیا جائے۔
غیر تملیکی اخراجات زکوٰۃ کی بجائے نفلی چندے سے کیے جائیں:
مکان کی تعمیر کے بعض اخراجات جیسے بروکری، بجلی و گیس کے میٹر، سرکاری فیسیں وغیرہ چونکہ فقیر کی ملکیت میں نہیں دی جاتیں، اس لیے اس طرح کے اخراجات زکوٰۃ کی رقم کے بجائے ادارہ دیگرنفلی عطیات سے خرچ کرے۔ جبکہ
صرف وہ اخراجات، جو فقیر کی ملکیت میں داخل ہوں (جیسے تعمیراتی مٹیریل اگر براہِ راست تملیک کی نیت سے دیا جائے)، وہ زکوٰۃ سے کیے جائیں۔
اب آپ کے سوالوں کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:
(١) زکوٰۃ کی رقم سے براہِ راست زمین خریدنا اور اس پر مکان تعمیر کرنا، سوال میں مذکور طریقے پر، درست نہیں، اس لیے کہ اس کے بعض اخراجات میں تملیک نہیں۔ لہٰذا اس کے بجائے مذکورہ بالا متبادل طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کیا جائے۔
(۲) زکوٰۃ کی اصل روح اور مصرف وہ ہے جس میں تملیک ہو، جو کہ مذکور طریقے کے بعض اخراجات میں موجود نہیں۔
(۳) زکوٰۃ دینے والے احباب کی طرف سے یہ عمل پوری طرح درست تب ہوتا جب اس کے جملہ اخراجات میں تملیک ہوتی۔
(۴) نہیں، بروکری، بجلی اور گیس کے میٹر لگوانے کے اخراجات، تعمیرات کے دوران پولیس یا دیگر ادارہ جاتی فیسیں جیسے اخراجات میں تملیک مفقود ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کی رقم سے ان کی ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔
(۵) نہیں، جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس کے بعض اخراجات میں چونکہ تملیک نہیں، لہٰذا زکوٰۃ کے مصرف میں وہ شامل نہیں کیے جا سکتے۔ لہٰذا اس طریقہ کو اپنانے کے بجائے، سوال میں مذکور متبادل میں سے کسی کو اپنایا جائے۔
حوالہ جات
الفتاوی التاتارخانیۃ( ۳؍۲۱۲ رقم: ۴۱۵۳):
ولا یجوز الزکاۃ إلا إذا قبضہا الفقیر أو قبضہا من یجوز قبضہا لہ لولایتہ علیہ کالأب والوصي یقبضان للمجنون والصبي.
الدرالمختار (۲؍۲۵۷ کراچی):
قولہ: ’’تملیک‘‘ خرج الإباحۃ فلو أطعم یتیما ناویاً الزکاۃ لایجزیہ، إلا إذا دفع إلیہ المطعوم کما لو کساہ بشرط أن یعقل القبض إلا إذا حکم علیہ بنفقتہم.
الفتاویٰ الولوالجیۃ( ۱؍۱۷۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت) :
ولا تجوز الزکاۃ إلا إذا قبضہا الفقیر أو نائبہ …؛ لأن التملیک لا یتم بدون القبض.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


