| 87558 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
منسلک طلاق نامے سے متعلق دریافت یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ ان الفاظ میں: 'میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں، میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں، میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں' لکھ کر اس پر دستخط کیے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا ان الفاظ سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں یا نہیں؟ نیز، کیا رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ایک ساتھ دو یا تین طلاق دینا جائز نہیں، گناہ کا کام ہے، تاہم اگر کوئی اس طرح کردے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اور آپ دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے، نہ موجودہ حالت میں دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔دونوں ایک دوسرے سے فورا الگ ہوجائیں ، عدت گزارنے کے بعد عورت کہیں اور چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
(صحيح البخاري :3/ 168)
عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك.
(الدر المختار :3/ 232)
( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو) واحدة في ( حيض موطوءة ).. الخ
)رد المحتار (3/ 232,233(
( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين ….الخ
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20 ٖذیقعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


